خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 270
خطابات ناصر جلد دوم ۲۷۰ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ ؍ دسمبر ۱۹۷۷ء ہو جائے ذرا، ایک خاص حرارت سے جس کو آدمی کنٹرول کر لیتا ہے تو پھر جو بڑا چولہا ہے وہ خود بخود آگ پکڑتا ہے اور بھڑ کنے لگ جاتا ہے۔دین کے معاملے میں بھی بہت ساری ایسی چیزیں سامنے آتی ہیں۔نصرت جہاں کی جو سکیم ہے وہ اس چھوٹے برنر کی ہے جس نے بڑے چولہے کو ایک وقت میں گرمی پہنچا کے اور وہ روحانی طور پر ایک شعلہ دان ہو کے اور دنیا کی خیر خواہی کے سامان پیدا کر دیئے۔۱۹۷۰ء میں میں نے یہ تحریک کی اور یہ تحریک کی میں نے پچیس لاکھ روپے کی ، اور کی الہی منشا کے مطابق اور میں نے یہ تحریک کی کہ یہ تین سال کے بعد ختم ہو جائے گی اس کے بعد اس تحریک میں دوستوں سے پیسے نہیں وصول کئے جائیں گے اور کچھ تحریکیں شروع ہو جائیں گی پھر اس کے لئے تیار ہو جاؤ۔مگر اس میں نہیں دینے۔دوستوں نے ہمت کر کے چھپیں لاکھ کی بجائے ترین لاکھ سرسٹھ ہزار سات سو تہتر رو پیدان تین سالوں میں اس میں جمع کر دیا۔لیکن یہ رقم برنر کے طور پر جیسا کہ میں نے کہا ابھی میں بتاؤں گا کیوں میں اس کو برنر کے طور پر کہتا ہوں جو ہر وقت جلتا ہے اور وقت ضرورت چولہوں کو آگ لگا دیتا ہے اور سارا پانی جو ہے وہ گرم ہو جاتا ہے اور ضرورت پوری ہو جاتی ہے۔پانی وہاں کا آہستہ آہستہ گرم ہونا شروع ہوا اور جو وعدہ ان سے کیا گیا تھا ان مغربی افریقہ کے ممالک سے اس ترتیب کے ساتھ تو اس کی شکل نہیں بنی لیکن وہاں کے حالات کے مطابق جو سولہ ہسپتالوں اور سولہ سکولوں کا وعدہ دیا گیا تھا وہ بجائے سات سال کے جس کا مجھے خیال تھا کہ سات سال لگ جائیں ہمیں پہلے تین سال کے اندراندرو خدا تعالیٰ نے وہ وعدہ پورا کرنے کی توفیق دے دی جماعت احمدیہ کو۔اور جس وقت وہاں کی ضرورتیں بڑھیں اور جو پانی بہت بڑا حجم جس کا ہے وہ برنر اس کو گرم ہی نہیں کر سکتا اس کے لئے زیادہ آگ کی ضرورت پڑی گرمی پہنچانے کے لئے تو اس وقت جو وہاں کا برنر تھا ناں مقامی ، بڑا چولہا اس نے آگ لگائی اور کام ہونے لگ گیا جو یہ چھوٹا سا شعلہ تریپن لاکھ کا تھا اس نے اس عرصے میں چار کروڑ چھیالیس لاکھ روپیہ وہاں پیدا کیا۔اور وہاں کے ہسپتالوں اور سکولوں کی ضرورتیں پوری کر دیں یہ ان کی اطلاع ہے بعض دفعہ نادان یہاں یونہی شور مچانا شروع کر دیتے ہیں بغیر سمجھے کے، ان ممالک کی یہ اطلاع ہے یہ ان کا روپیہ ہے اس میں نہ میرا دخل ہے نہ آپ کا دخل، ان کی اطلاع ہے کہ ہمیں خدا تعالیٰ نے اس سکیم کے ذریعہ