خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 266 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 266

خطابات ناصر جلد دوم ۲۶۶ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ ؍ دسمبر ۱۹۷۷ء ہے اس وقت تک ساڑھے سترہ ہزار روپے خرچ کئے ہیں۔پھر انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ حضرت فضل عمر رضی اللہ عنہ کے خطبات و تقاریر کو جمع کر کے شائع کر دیں اس وقت تک خطبات عیدین یعنی چھوٹی اور بڑی عید کے خطبات علیحدہ علیحدہ دو جلدوں میں شائع ہو چکے ہیں۔خطبات نکاح کا مسودہ تیار ہو چکا ہے اور کہتے ہیں کہ اس میں عید کے خطبات حضرت فضل عمر رضی اللہ کے اور وہ ہمارے پاس پڑے ہوئے ہیں اور بکے نہیں میں کہتا ہوں کہ آپ تو وہاں لے کے نہیں گئے ورنہ وہ ہاتھوں ہاتھ بک جاتے۔بہر حال وہ یہ کہتے ہیں کہ اب ہم انتظار کر رہے ہیں کہ خطبات نکاح کا مسودہ تیار ہے شائع اس وقت کریں گے جب جماعت خطبات عیدین خرید لے گی۔خرید لیں آپ خطبات نکاح آپ کے کام آجائیں آپ کے نہیں تو آپ کی بچیوں اور بچوں کے کام آجائیں نکاح کے موقع پہ اور چوتھی چیز یہ کہ حضرت فضل عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سوانح لکھی جائے پہلی جلد شائع ہو چکی ہے دوسری جلد کا مسودہ زیر تصنیف ہے میاں طاہر احمد صاحب اس کو تیار کر رہے ہیں۔وقف جدید معلمین وقف جدید کی ضرورت بہت ہے۔جماعتیں معلمین کے مطالبات کرتی ہیں۔یعنی جو تھوڑی سی ملاقات اس وقت تک ہو چکی ہے اس ملاقات میں بھی بہت سی جماعتوں نے مجھے کہا کہ ہمیں معلم دیں ان کو تو میں نے بتا دیا کہ دفتر سے پتہ کریں گے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر دوسو جماعتوں میں معلم وقف جدید کی ضرورت ہو اور آپ صرف سو معلم دیں جماعت کو تو باقی ہم نے آٹے کی بوریاں بنا کے تو وہاں نہیں بھیجنی۔معلم دیں گے آپ تو تیار کئے جائیں گے وہاں تب جاکے اور وہ کام کر سکیں گے اور اس طرح میں سمجھتا ہوں قصور وقف جدید کی انتظامیہ کا بھی ہے جو آپ کے اس حصے کے سامنے دیکھیں ناں جماعت کا ہر حصہ اس قابل نہیں ہے کہ جو معلم وقف جدید بن جائے بعض ایسے ہیں جو اپنے علم کے لحاظ سے معلم وقف جدید سے بہت آگے نکلے ہوئے ہیں۔ایک ایم اے جو ہے وہ بطور معلم کے تو اپنے آپ کو پیش نہیں کر سکتا جبکہ اس کا معیار انہوں نے آٹھویں جماعت رکھا ہوا ہے اور کچھ وہ ہیں جو ان کے معیار سے کم ہیں چوتھی جماعت والا بھی نہیں کر سکتا تو ایک محدود حلقہ رہ گیا جنہوں نے آٹھویں جماعت پاس کی ہے اور وہ ذہین ہیں اور مخلص ہیں اور دین کی طرف ان کی توجہ ہے اور دینی علوم سیکھ سکتے ہیں یہ بڑا محدود دائرہ ہو گیا اس دائرے کو یہ سوچ کے کہ صرف یہ دائرہ ہے جس کو اپروچ (Approach) ہو سکتی ہے ان کو جاکے