خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 238
خطابات ناصر جلد دوم ۲۳۸ افتتاحی خطاب ۲۶؍ دسمبر ۱۹۷۷ء جو اپنی عمر کے لحاظ سے ذہنی اور روحانی ارتقاء کے مطابق خدا کے لئے کام کر رہے ہوتے ہیں۔اگر وہ کوئی چھوٹی سی غلطی کر بیٹھیں یا اونچی آواز میں بول پڑیں یا آپس میں لڑ پڑیں تو ایسے موقع پر اگر آپ ان سے بھی زیادہ اونچی آواز میں بات کریں گے تو آپ بچوں سے بھی زیادہ چھوٹے بچے بن جائیں گے۔پس پیار کے ساتھ بچوں کو سمجھائیں یہاں پیار کی ایسی فضا ہونی چاہئے کہ خدا کے فرشتے یہ سمجھیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کی رضا جوئی میں واقع میں فرشتوں سے بھی آگے نکل گئے ہیں۔غرض دوست ان دنوں میں خاص طور پر ایک دوسرے سے محبت اور پیار سے پیش آئیں۔شور نہ مچائیں۔غصے کی نگاہ نہ اٹھا ئیں۔غض بصر سے کام لیں۔ہر ایک سے ملیں اور سلام کہیں خواہ آپ اس کو جانتے ہیں یا نہیں۔آخر جب حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہدی معہود کو سلام بھیجا تھا تو وہ صرف ایک شخص کے لئے نہیں تھا بلکہ مہدی علیہ السلام کی وساطت سے آپ کی جماعت کو بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سلامتی کی یہ دعا پہنچی ہے۔حضرت مہدی علیہ السلام تو اب ہم میں موجود نہیں ہیں لیکن آپ کو ماننے والے، آپ کے فدائی، آپ کی باتوں کو سن کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہونے والے اور دین متین اسلام کو دنیا میں پھیلانے والے تو موجود ہیں اور یہ سب اپنے اپنے رنگ میں اس اجتماعی کوشش میں حصہ لے رہے ہیں جو اسلام کو ساری دنیا پر غالب کرنے کے لئے شروع ہے۔اس لئے جماعت میں سے ہر ایک شخص کی بڑی عزت ہے اور بڑا وقار ہے خدا تعالیٰ کے فرشتوں کی نگاہ میں۔اس مقام کو حاصل کرنے کے بعد آپ ایک دوسرے کو سلام نہ کہیں تو یہ بڑی عجیب بات ہوگی۔میں دوستوں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ جب بھی راستے میں ایک دوسرے سے ملیں سلام کہیں۔ہماری فضا کوتو ہمیشہ السلام علیکم اور و علیکم السلام کی آوازوں سے گونجتے رہنا چاہئے۔پھر یہ بھی ضروری ہے کہ دوست اپنے وقت کو ضائع نہ کریں۔مختلف جگہوں سے دوست یہاں اکٹھے ہوتے ہیں۔دوستوں اور رشتہ داروں سے ملاقات اور آپس میں محبت و پیار اور اخوت وموڈت کو بڑھانے کے مواقع میسر آتے ہیں۔ان سے فائدہ اٹھا ئیں۔علاوہ ازیں بہشتی مقبرہ میں جائیں جہاں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا مزار ہے۔آپ نے دین اسلام کی اتنی خدمت کی ہے اور جماعت پر آپ کے اتنے احسان ہیں کہ ان کا یہ حق ہے کہ ہم ہمیشہ ان کے لئے دعائیں