خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 237 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 237

خطابات ناصر جلد دوم ۲۳۷ افتتاحی خطاب ۲۶؍ دسمبر ۱۹۷۷ء ایک انقلاب عظیم برپا کروں گا جو نوع انسانی کی زندگی میں آج تک نہ کبھی رونما ہوا اور نہ کبھی ہو گا۔پس ان ذمہ داریوں کو سمجھنے کے لئے اور ان کی ادائیگی کا عزم کرنے کے لئے اور دعاؤں کے ذریعہ خدا تعالیٰ سے اس کی مدد مانگنے کے لئے جلسہ سالانہ کے موقع پر ہم یہاں اکٹھے ہوتے ہیں۔بعض چھوٹی چھوٹی ذمہ داریاں ہوتی ہیں ان کو بھی نہیں بھولنا چاہئے۔اگر چہ بظاہر وہ چھوٹی باتیں معلوم ہوتی ہیں لیکن عملاً ہر ذمہ داری جو ہمارے کندھوں پر ڈالی گئی ہے وہ چھوٹی نہیں ہوتی بلکہ وہ نتائج کے اعتبار سے عظیم ذمہ داری ہوتی ہے مثلاً وقار کے ساتھ زندگی گزارنا بظاہر ایک چھوٹی سی بات ہے لیکن اسلام میں اس کے بارہ میں بہت تاکید کی گئی ہے۔چنانچہ ایک بار حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک رکعت کو چھوڑ دینا جائز ہے لیکن اپنے وقار کو ٹھیس پہنچانا جائز نہیں۔ایک شخص کو آپ نے دیکھا کہ وہ وقار کو چھوڑ کر بڑی تیزی کے ساتھ مسجد کی طرف آرہا تھا یا مسجد میں دوڑ رہا تھا کہ پہلی رکعت ضائع نہ ہو جائے تو آپ نے فرمایا الوقار ( صحیح بخاری کتاب الاذان ) دیکھو تم و قار کو ہاتھ سے چھوڑ رہے ہو۔وقار کو ہاتھ سے نہ چھوڑو۔ان باتوں کی طرف خیال رکھنے کی ضرورت ہمارے اس جلسے میں بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ہر قسم کے لوگ یہاں آتے ہیں۔چھوٹے بچے اور عورتیں بھی کثرت سے آتی ہیں اس لئے وقار کے ساتھ چلنا چاہئے ویسے ہم اس طریق کوملحوظ رکھتے ہیں مثلاً عورتوں کے لئے جو راستے مقرر ہیں ان پر عورتیں چلتی ہیں اور مردوں کے لئے جو راستے مقرر ہیں ان پر مرد چلتے ہیں اور یہ بات دنیا کے لئے حیرت کا باعث بھی بنتی ہے لیکن دنیا کی حیرتوں سے ہمیں کوئی دلچسپی نہیں ہم تو اپنے مولائے حقیقی کو خوش کرنا چاہتے ہیں اور بس۔پس وقار کے ساتھ یہ دن گزاریں۔بچوں کو وقار کے ساتھ چلنے کی تلقین کریں۔جمعہ کا خطبہ جب ہورہا ہوتا ہے تو حکم ہے کہ اگر کوئی بولے تو اسے منع نہیں کرنا۔اس لئے اگر ان دنوں میں بچے شور مچائیں تو اگر آپ ان سے زیادہ شور مچا کر ان کو خاموش کرائیں گے تو یہ اس سے بھی بڑا گناہ ہوگا جس کے وہ ( بچے ) مرتکب ہورہے ہوں گے۔اس لئے اگر بچے شور مچائیں تو ان کو پیار کے ساتھ نرمی کے ساتھ اور ہلکی آواز کے ساتھ سمجھا ئیں کہ دیکھو بیٹے تم اس موقع پر شور نہ کرو۔خدا سے دعائیں کرو۔ہر بچہ اپنے رنگ میں دعا کرتا ہے اور اپنے رنگ میں دین سیکھتا ہے اور دین کے لئے قربانیاں کر رہا ہوتا ہے۔اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو وہ احمدی بچہ نہیں۔احمدی بچے تو وہی ہیں