خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 214
خطابات ناصر جلد دوم ۲۱۴ اختتامی خطاب ۱۲؍ دسمبر ۱۹۷۶ء طرح ہیں پچھلے دنوں میں چین زلزلہ آیا تو صیح خبر وہ ہے جو چین ہمیں بتائے گا کہ وہاں کیا ہوا۔اب اگر کوئی زید یا بکر یہاں بیٹھ کر اور حساب کے اربعے لگا کر کہے کہ چین میں یوں ہوا تو عقل کہتی ہے عقل کی اس بات کو قبول نہ کرو خواہ وہ کتنی ہی معقول باتیں اپنے حق میں لکھ گیا ہے۔پس جہاں تک مشہورات اور محسوسات کا تعلق ہے عقل کو اللہ تعالیٰ نے رفیق دیا تجربہ اور مشاہدہ جہاں تک عقلی استدلال کا تعلق ہے ایسے واقعات سے جو ماضی میں ہوئے زمانی لحاظ سے دور یا ہزار میل پرے مکانی لحاظ سے دور اس میں عقل کے ساتھ یا تاریخ چاہئے یا اخبار چاہئیں یا مراسلات چاہئیں یا خطوط چاہئیں دونوں چیزیں ملیں گی تو صحیح نتیجہ نکلے گا ورنہ نہیں نکلے گا کہ عقل مشاہدہ اور تجربہ کے بغیر صحیح نتیجہ پر نہیں پہنچی۔دنیا نے اس اصول کو تسلیم کیا ہے جو تاریخی بات ہے اسے مستند تاریخ بتائے گی پھر آگے عقل نتیجہ نکالے گی۔تاریخ ہمیں یہ بتائے گی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر کے موقع پر اتنے انسان تھے یہ تاریخ کا کام ہے یہ حساب دان کا کام نہیں ہے کہ وہ اربعے لگا کر بتائے کہ اتنے لوگ تھے تاریخ ہمیں یہ بتائے گی کہ ان کے ہتھیاروں کی یہ حالت تھی پرانی تلوار میں کند تلواریں زنگ آلود تلوار میں تھیں۔تاریخ ہمیں یہ بتائے گی کہ بہتوں کے پاس پہننے کی جو یاں بھی نہ تھیں۔تاریخ ہمیں یہ بتائے گی کہ ان کے پاس سواری کے لئے گھوڑے اور اونٹ بھی نہیں تھے۔یہ تاریخ کا کام ہے۔ہماری عقل ان سب چیزوں کو لے کر کہے گی کہ عظیم تھا وہ انسان جس نے اپنے گرد جمع ہونے والے لوگوں کی ایسی عظیم تربیت کر دی کہ وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں ہر وقت قربان ہونے کے لئے تیار رہتے تھے۔یہ ہے ہماری عقل لیکن اگر تاریخ ہمیں کچھ بھی نہ بتائے جیسا کہ میں نے ہندو تاریخ کے متعلق بتایا ہے کہ لوگ خود ہی بنا لیتے ہیں اور ہم یہ کہیں کہ فلاں واقعہ بڑا عظیم تھا تو عقل کہے گی کہ ابھی یہ بات ماننے والی نہیں پہلے شہادت لے لیں دو چیزیں آگئیں۔عقل کے رفیق آگئے۔جہاں تک ماورای امحسوسات کا تعلق ہے۔یا الہیات کا تعلق ہے اسلام کہتا ہے عقل کو ہم نے الہام کا رفیق عطا کیا ہے۔بغیر الہام کے رفیق کے عقل کسی نتیجہ پر پہنچ ہی نہیں سکتی۔اس کا یہ کام ہی نہیں جو چیز محسوسات کی دنیا سے باہر ہے عقل کا کیا کام کہ وہاں تک پہنچے جب تک عقل کے ساتھ الہام نہ ہو۔عقل یہ نہیں کہ سکتی کہ اس نے یہ اربعہ لگایا اور وہ اس نتیجہ پر پہنچی کہ بعض آدمی مستقبل کی