خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 206
خطابات ناصر جلد دوم اختتامی خطاب ۱۲؍ دسمبر ۱۹۷۶ء کارل مارکس کا دس کا بیٹل میں نے دو سے زیادہ دفعہ پڑھا ہے اسی طرح اینجلز ہے لینن ہے ان سب کی کتابیں میں نے پڑھی ہیں اس لئے کہ مجھے علم سے دوستی ہے اور اسلام سے پیار ہے۔اگر میں نے اسلام کی تعلیم کی برتری ثابت کرنی ہے یا جماعت نے ثابت کرنی ہے تو ان باتوں کا علم ہونا چاہئے غرض میں نے ان سے کہا آپ کا سارا لڑ بچر میں نے پڑھا ہے مجھے کہیں بھی need کی تعریف نہیں ملی اس لئے میں بڑا ممنون ہوں گا اگر آپ مجھے need کی تعریف (Definition) بتا دیں۔ہم بارہ منٹ تک باتیں کرتے رہے لیکن وہ اس طرف نہیں آئے چنانچہ اس مجلس میں جو دوسرے لوگ بیٹھے ہوئے تھے اور وہ بھی بڑے اونچے درجے کے قانون دان تھے وہ روسی قانون دان کو دیکھ رہے تھے اور مسکرا رہے تھے اور سمجھ رہے تھے کہ سوال کیا گیا ہے جواب نہیں دیا گیا کسی نے کبھی جواب نہیں دیا۔ایک سے زائد دفعہ پریس کانفرنسوں میں باتیں کرنے کا موقع ملا ہے بڑے کڑا قسم کے اشترا کی بھی ہمارے پاس آتے ہیں اور ہم سے ملتے ہیں ساری دنیا سے ہم پیار کرتے ہیں اسلام نے ہمیں بنی نوع انسان سے پیار کرنا سکھایا ہے ہم پیار سے باتیں کرتے ہیں اشترا کیوں سے باتیں کرتے ہیں ان سے جواب نہیں بن پڑتا انہیں سر نیچا کرنا پڑتا ہے پھر میں ان کو بتا تا ہوں کہ اسلام نے needs یعنی ضرورتوں کا لفظ استعمال نہیں کیا۔اسلام نے اس کو اصطلاح نہیں بنایا۔بلکہ اس کی بجائے حق کا لفظ استعمال کیا ہے اسلام کہتا ہے ہر ایک کو ہر فرد واحد کو اس کا حق ملنا چاہئے پھر وہی سوال آ جاتا ہے کہ اسلام کے نزدیک حق کی تعریف کیا ہے چنانچہ اسلام نے حق کی ایسی تعریف کی ہے کہ جس سے بہتر تعریف ممکن نہیں ہے میں لوگوں سے یہ کہتا رہا ہوں کہ اس سے بہتر تعریف تمہارے ذہین میں ہے تو بتا ؤ لیکن آج تک کوئی شخص یہ کہنے کی جرات نہیں کر سکا کہ اس سے بہتر تعریف بھی ہوسکتی ہے۔اسلام یہ کہتا ہے کہ ہر شخص کو اس کا حق ملنا چاہئے اور اس کا حق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے جو مختلف قوتیں اور استعداد یں دی ہیں ان کے نشو و نما کے لئے جس چیز کی بھی ضرورت ہے وہ اس کا حق ہے اور جب وہ نشو و نما کر کے اپنے دائرہ استعداد میں ایک خاص مقام پر پہنچ جائے تو اس مقام پر رہنے کے لئے جس چیز کی بھی ضرورت ہے وہ اس کا حق ہے اور وہ اسے ملنی چاہئے اگر کسی کی استعدا د ضائع ہوتی ہے تو گویا اس کا حق مارا جارہا ہے۔