خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 205
خطابات ناصر جلد دوم ۲۰۵ اختتامی خطاب ۱۲؍ دسمبر ۱۹۷۶ء سینکڑوں ایسی مثالیں ہیں کہ اپنے ہی گھر میں چلتے ہوئے تیز قدم اٹھایا اور کہنی لگی میز کے ساتھ اور بازو کی ہڈی ٹوٹ گئی۔کہتے ہیں یہ چونے کی کمی کا نتیجہ ہے چونا کھانا چھوڑ نا نہیں چاہئے یہ امریکہ کی عقل کہہ رہی ہے یو کے (انگریز) کی عقل کہتی ہے ۳۵ - ۴۰ سال کی عمر کے بعد تم نے چونا نہیں کھانا ور نہ بیمار ہو جاؤ گے۔اب اگر عقل انسان کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے کافی ہوتی ( اور عقل سے میری مراد جیسا کہ میں نے کہا ہے وہ عقل ہے جس کو کسی اور جز کی جس کا میں بعد میں ذکر کروں گا اعانت اور اس کی امداد حاصل نہ ہوئی ہو ) اگر عقل کافی ہو اس شکل میں کہ وہ عقل ہی کا فیصلہ ہے تو ہر دو کو ایک نتیجہ پر پہنچنا چاہئے لیکن نہیں پہنچتی۔اقتصادیات کے میدان میں لے لو۔دنیا میں بڑا ہنگامہ ہے ملک ملک بٹ گیا الگ الگ اقتصادی تھیوریز بنالی گئیں۔جوان اپنے فیصلے تھے ان کے اختلاف کی وجہ سے سرمایہ دارانہ علاقے ایک قسم کے اقتصادی اصول اپنانے لگ گئے اور جو اشتراکی ممالک تھے ایشیا وغیرہ انہوں نے بھی دنیوی میدانوں میں بڑی ترقی کی مگر ان کے اقتصادی اصول بالکل مختلف ہیں۔مجھے ان ہر دو سے باتیں کرنے کا اتفاق ہوا ہے یعنی میں نے سرمایہ داروں اور کمیونسٹوں سے بھی باتیں کیں۔اصل مضمون تو اس تمہید کے بعد آئے گا لیکن مجھے اس کی بعض مثالیں دینی پڑیں گی۔مثلاً کمیونسٹوں سے میں نے کہا کہ دیکھو تم نے دنیا میں ایک اعلان کیا اور بظاہر وہ بڑا اچھا اعلان تھا اس کے ظاہری الفاظ ایسے تھے کہ ہم نے بھی سمجھا بڑا اچھا اعلان ہے اور وہ اعلان یہ تھا۔۔to each according to his need ہر ایک آدمی کو اس کی ضرورت کے مطابق دیا جائے اب عام عقل یہ کہتی ہے کہ یہ اعلان بڑا اچھا ہے لیکن اس اعلان کی خامی یہ ہے کہ جو need (ضرورت) کا لفظ یا اصطلاح استعمال کی گئی ہے اس کی تعریف ہی کوئی نہیں کی اور نتیجہ یہ ہوا کہ اپنی ضرورت کے مطابق ضرورت کی تعریف بنالی جس سے بعض لوگوں کو نقصان پہنچا دیا اور بعض کو فائدہ پہنچا دیا۔میں نے ایک دفعہ روس کے ایک بہت بڑے ماہر قانون سے یہ کہا کہ تمہارے اعتقادات کا یہ فقرہ تو میں نے پڑھا to each according to his need۔لیکن باوجود اس کے کہ میں نے تمہارے سارے بڑے بڑوں کی کتابیں پڑھ لی ہیں مثلاً