خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 201 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 201

خطابات ناصر جلد دوم ۲۰۱ دوسرے روز کا خطاب اار دسمبر ۱۹۷۶ء اللہ تعالیٰ کو عاجزانہ را ہیں پسند ہیں جب تک ہم عاجزی اور انکسار اور تواضع اور بے کسی کی حقیقت پر اپنے قدم جمائے رکھیں گے اس وقت تک دعاؤں کے نتیجہ میں، جن کی تو فیق پھر خدا ہی دیتا ہے، جماعت اللہ تعالیٰ کی برکتیں پہلے سے زیادہ سے زیادہ حاصل کرتی چلی جائے گی۔یہ اس لئے نہیں ہوگا کہ قادیان میں ایک بچہ پیدا ہوا تھا اور اس نے کھڑے ہو کر یہ اعلان کیا تھا۔یعنی مہدی علیہ السلام نے بلکہ یہ اس لئے ہو گا کہ خدا تعالیٰ نے پہلے سے بشارتیں دی تھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اور قرآن کریم میں اور پہلے بزرگوں کو۔پس یہ اس لئے ہوگا کہ ان بشارتوں کے مطابق مہدی کے زمانہ میں اسلام دنیا میں غالب آئے اور بیچ اور صداقت کا بول بالا ہو اور اسلام تمام ادیان باطلہ کو ان کی حقیقت بتلا کر پیار اور سلامتی اور امن کے ساتھ ، ان کے دلوں کو اس گند سے نکال کر اور اس دلدل سے نکال کر جس میں وہ پھنسے ہوئے ہیں ایک روشن ایک خوشگوار ایک پر سکون ایک اطمینان بخش ماحول میں لا کھڑا کرے یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے ( فضا نعرہ ہائے تکبیر سے گونج اٹھی ) اس کے بعد حضور انور نے فرمایا: انشاء اللہ کل ملیں گے۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔( از رجسٹر خطابات ناصر غیر مطبوعہ )