خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 10
خطابات ناصر جلد دوم افتتاحی خطاب ۲۶؍ دسمبر ۱۹۷۴ء تعلق کیسے رکھ سکتی ہے۔خدا تعالیٰ اپنے بندہ سے یقیناً ذاتی تعلق رکھتا ہے کیونکہ یہ ہماری زندگی کا مشاہدہ ہے۔اس لیے ہم مسکراتے چہروں اور مطمئن دلوں کے ساتھ ساری افواہوں کو ٹھکراتے ہوئے یہاں مرکز سلسلہ میں جمع ہو گئے۔اُس سے زیادہ جتنے پچھلے سال تھے۔یہ خدا کی شان ہے اور اس کا عظیم فضل ہے جس پر ہمارے دل اس کی حمد سے لبریز ہیں۔میں نے بتایا ہے کہ دعاؤں سے اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جذب کرنے کا امتیاز اور فرقان جماعت احمدیہ سے تعلق رکھتا ہے۔گو اللہ تعالیٰ سب کا رب ہے۔لیکن بحیثیت جماعت اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کو پانے کے اعتبار سے یہ ایک منفرد جماعت ہے اب دنیا پر جب ہم نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں بار بار دعائیں کرنی پڑتی ہیں۔دنیا میں فتنہ وفساد کی ایک آگ لگی ہوئی ہے شرق اوسط میں ہمارے عربی بولنے والے مسلمان ممالک ہیں۔اسرائیل نے اُن کو تنگ کیا ہوا ہے۔ابھی پچھلے دنوں بڑی تشویشناک خبریں آ رہی تھیں ایک اور حملہ ہوگا ، امریکہ بھی مسلمان ملکوں پر حملہ کرے گا دوسرے لوگ بھی گھبرائے ہم بھی گھبرائے۔لیکن جو دعا کی توفیق ایک احمدی کو ملتی ہے وہ دوسروں کو نہیں ملتی کیونکہ ایک احمدی ہی ہے جس کا ایک زندہ تعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے محبوب مہدی علیہ السلام کے طفیل اپنے زندہ خدا سے ہے۔یہ چیزیں اس زمانہ میں پھر مہدی نے ہمیں دیں۔ہم اُس مہدی کو چھوڑ کر کہاں جا سکتے ہیں۔جس نے زندہ خدا سے ہمیں متعارف کروایا۔جس نے ہمیں اسلام کی وہ راہیں بتا ئیں جن کے نتیجہ میں خدا سے ہمارا زندہ تعلق پیدا ہو گیا اور خدا تعالیٰ کے پیار کے زندہ جلوے ہم نے اپنی زندگیوں میں دیکھے ہم اس خدا کو نہیں چھوڑ سکتے۔حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم سے دُوری ہم اپنے لیے موت سمجھتے ہیں اور مہدی علیہ السلام کی جماعت سے باہر نکلنے کا تصور ہی نہیں کر سکتے۔ٹھیک ہے گردن پر چھری رکھ کر بعض لوگوں سے انکار بھی کروا دیا لیکن یہ بھی درست ہے کہ انکار کروانے والوں کی طرف سے ہمیں اطلاع بعد میں ملی اور وہ روتے ہوئے ہمارے پاس پہلے پہنچ گئے کہ مجبوری تھی اس لیے اعلان کر دیا۔ہم نے کہا ٹھیک ہے خدا تمہیں معاف کرے گا۔کوئی فکر نہ کرو۔لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ( الزمر :۵۴) کا اعلان ان حالات کے لیے بھی کیا گیا ہے۔میں بتا یہ رہا ہوں کہ دنیا میں ایک فساد برپا ہے۔نوع انسانی کے لیے دعائیں کرنا