خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 196 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 196

خطابات ناصر جلد دوم ۱۹۶ دوسرے روز کا خطاب ۱۱ر دسمبر ۱۹۷۶ء اس سے گر کر تو ہم ترقی نہیں کر سکتے۔ہم اس سے آگے بڑھیں گے ، ہمارا ہر قدم پہلے قدم سے آگے جاتا ہے اور اس میدان میں بھی انشاء اللہ آگے جائے گا اور جس طرح مکان کی بنیاد رکھی جاتی ہے اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ذریعہ ایک مضبوط بنیاد بنادی ہے۔وقف جدید غیر مسلموں میں بھی تبلیغ کر رہی ہے اور بڑی کامیاب تبلیغ ہے۔پاکستان میں اس وقت بھی بہت سی ایسی pockets ہیں ایسے علاقے اور خطے ہیں جہاں غیر مسلم آباد ہیں۔ان غیر مسلموں میں آگے پھر دنیوی لحاظ سے بڑے بڑے امیر بھی ہیں اور بڑے غریب بھی۔غریبوں کو اٹھانا جماعت احمدیہ کا فرض قرار دیا گیا ہے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ اگر کوئی امیر خدا تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنا چاہے تو ہم اس کے رستے میں روک بنیں گے اور مزاحم بنیں گے بلکہ وہ بڑی خوشی سے خدا کے فضلوں کو حاصل کرے لیکن ہمارا مذہب یہ ہے کہ جو غریب ہے رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةٌ وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (البقرۃ:۲۰۲) کی دعا کے مطابق اسے دین و دنیا کی حسنات ملیں اور اللہ تعالیٰ کے قہر کے طمانچے سے اسے محفوظ کیا جائے۔چنانچہ یہ جو ہندو علاقے ہیں جہاں وقف جدید کام کر رہی ہے ان میں سینکڑوں کی تعداد میں غیر مسلم ہندو مسلمان ہو چکے ہیں اور ان علاقوں کے غیر مسلموں میں سے مسلمان ہونے والے ستر افراد اس جلسہ میں شامل ہیں (اس موقع پر فضا نعرہ ہائے تکبیر اور اسلامی عظمت کے دوسرے نعروں سے گونج اٹھی ) یہ جو غریب غیر مسلم ہیں ان پر تو اسلامی تعلیم کا پہلا اصول ہی بڑا کارگر ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان انسان میں کوئی فرق نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے کہلوا دیا کہ قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ (الكهف : ١) کم میرے اور تمہارے درمیان بشر ہونے کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو یہ کہیں کہ میرے اور تمہارے درمیان بشر ہونے کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں مگر کتنے ہیں جو یہ سمجھیں کہ ہاں ہمارے اور تمہارے درمیان بھی بشر ہونے کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں۔کمزور ، لا چار، ہر لحاظ سے مادی آلائشوں میں گھرا ہوا اور دلدل میں پھنسا ہوا انسان اپنے آپ کو خدا سمجھنے لگ جاتا ہے۔خدا تعالیٰ ان شیطانی حملوں سے ہمیں محفوظ رکھے۔غرض ان لوگوں کو اسلام نے گلے سے لگایا۔ہم ہیں آج اسلام کے ہیرو، ہم ہیں اسلام کے علمبردار اسلام کو ان تک پہنچانے