خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 193
خطابات ناصر جلد دوم ۱۹۳ دوسرے روز کا خطاب ۱۱ر دسمبر ۱۹۷۶ء مجھے اور آپ کو جو اس مردانہ جلسہ گاہ میں بیٹھے ہیں غیرت بھی آنی چاہئے نا کہ لڑکیاں لڑکوں سے آگے نکل گئیں۔تحریک جدید کی طرف سے انتیس ممالک میں مرکزی مبلغین کام کر رہے ہیں لیکن اسرائیل ان کے ساتھ تعلق نہیں رکھتا بلکہ وہاں کی علیحدہ احمدی جماعت ہے جس طرح کہ وہاں پر دوسرے مسلمان ہیں ہم چند ہزار ہیں اور دوسرے مسلمان چند لاکھ ہیں چنانچہ ہم پر اعتراض ان چند لاکھ کے سروں سے پھسلتا پھسلتا ہی ہم تک پہنچے گا نا۔یہ جو انتیس ممالک ہیں جہاں ہمارے مرکزی مبلغ کام کر رہے ہیں ان میں نو سو پینتیس مشنز ہیں یعنی نو سو پینتیس ہیڈ کوارٹر ہیں جہاں سے تبلیغ اسلام واحمدیت ہو رہی ہے۔امسال اٹھارہ نئے مشن کھلے ہیں چودہ غانا میں تین امریکہ اور ایک نجی میں۔اس کے علاوہ اکیس ایسے ممالک ہیں جن کے متعلق تحریک جدید کو پتہ ہے کہ وہاں جماعتیں قائم ہیں اور منظم جماعتیں ہیں لیکن ابھی ہم وہاں مشنری نہیں بھجوا سکے۔اس کے علاوہ قریباً ہر ملک میں ہماری جماعتیں ہیں کہیں چھوٹی ہیں کہیں بڑی ، کئی جگہ اتفاقاہی احمدیوں کا پتہ لگتا ہے مثلاً سوڈان میں بعض خاندانوں کا پتہ لگا۔وہ اتنے مخلص ہیں کہ ان کا ایک بھائی ملا ( ان کا باپ مر چکا ہے ) اور اس نے کہا کہ ہم بھائی اور بہنوں کے دلوں میں تو احمدیت کو اس قدر گا ڑا ہے ہمارے باپ نے کہ ہم دنیا کی ہر چیز کو چھوڑ سکتے ہیں مگر احمدیت کو نہیں چھوڑ سکتے لیکن ہمارا مرکز سے تعلق نہیں۔وہ افسوس کر رہے تھے کہ ہمیں پتہ ہی نہیں کہ جماعت کہاں سے کہاں تک پہنچ گئی ہے۔بہر حال دنیا کے ہر حصے میں جماعتیں ہیں لیکن جہاں ہمارے مرکزی مشن کا م کر رہے ہیں ان ممالک کی تعداد انتیس ہے اور کسی ایک ملک کے کسی ایک مشن میں بھی تالا نہیں پڑا اور ان ممالک کے مشنز کی کل تعداد نو سو پینتیس ہے۔( نعرہ ہائے تکبیر ) سال رواں میں جو مساجد بیرون ملک بنی ہیں ان میں امریکہ میں ایک مسجد ، اور جیسا کہ میں نے ابھی ذکر کیا ہے انگلینڈ کے ذریعہ صد سالہ جوبلی کے ماتحت گوٹن برگ میں ایک مسجد بنی ہے اور سیلون میں ایک مسجد اور غانا میں چھ مساجد بنی ہیں اور میرا خیال ہے کہ چند درجن مساجد زیر تعمیر ہیں جن کے متعلق انشاء اللہ اللہ خیر رکھے آپ اگلے سال خوشخبریاں سنیں گے۔قرآن کریم کے تراجم ! کچھ تراجم تو میں نے پچھلے سال بھی بتایا تھا کہ ہو چکے ہیں مثلاً