خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 158 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 158

خطابات ناصر جلد دوم ۱۵۸ اختتامی خطاب ۲۸ ؍دسمبر ۱۹۷۵ء نے یہ غلط کہا تھا کہ اگر کوئی ایک تھپڑ مارتا ہے تو اس کے منہ پر دو تھپڑ لگا کر اسے سیدھا کر دو اس لئے میں تمہیں یہ کہتا ہوں کہ اگر کوئی ایک تھپڑ لگاتا ہے تو تم دوسری گال بھی اس کے سامنے کر دو۔پس یہ شریعتیں اپنے زمانہ کے لحاظ سے بھی محدود، جگہ کے لحاظ سے بھی محدود اور وقت کے لحاظ سے بھی محدود تھیں اور اپنا وقت گزار کر ختم ہو چکی ہیں مگر یہ اہل کتاب ہیں کہ بجائے اسلام کی صداقت کو مان لینے کے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے ہر وہ دلیل جو نہایت مؤثر ہے، قائل کرنے والی اور گھائل کرنے والی ہے اس کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں چنانچہ کچھ عرصہ ہوا تین سوسائنسدانوں نے کفن مسیح پر تحقیق کر کے یہ ثابت کیا کہ مسیح علیہ السلام صلیب پر سے زندہ اترے اور ان کے زخموں پر مرہم لگائی گئی اور جس غار میں ان کو رکھا گیا تھا۔اس میں سے زندہ باہر نکلے یہ سائنسدان عیسائی اور کچھ دھر یہ ہیں اور یورپ کے رہنے والے ہیں ان کے نام نہیں بتائے گئے کہ ممکن ہے بعض عیسائی طاقتیں ان کو قتل کروا دیں۔بہر حال انہوں نے اپنی تحقیق سے ثابت کیا کہ مسیح غار سے زندہ باہر نکلے اور کہیں چلے گئے۔ہم عیسائیوں سے کہتے ہیں۔تمہیں اپنے مسیح کا پتہ نہیں کہ کہاں چلے گئے اور یہ تم کو مسیح محمدی نے بتادیا کہ وہ کشمیر چلے گئے تھے۔اب تو سمجھ جانا چاہئے تھا مگر نہیں۔اپنے ایسے مذہب کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں جس کا وقت گزر چکا ہے۔وہ مذہب جس کا یہ وقت ہے وہ اسلام ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ ہے۔آپ کو ایک ایسی کامل شریعت دی گئی۔جس نے قیامت تک انسانی الجھنوں کو سلجھانا اور مسائل کو حل کرنا تھا۔قرآن کریم نے یہ اعلان کیا تھا کہ میرے اندر علم و ہدایت کے چھپے ہوئے خزانے ہیں جو وقت وقت کی ضرورت کے مطابق مطہرین کے گروہ کو علم لدنی کے ذریعہ سکھائے جائیں گے۔یعنی خدا تعالیٰ خودان کو علم سکھائے گا اور پھر وہ آگے لوگوں کو علم قرآن سکھائیں گے لیکن خدا تعالیٰ سے قرآن کریم کے لئے معارف حاصل کرنے کے بعد اور نئے اسرار روحانیہ حاصل کرنے کے بعد یہ عظیم کتاب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں قرآں کے گرد گھوموں کعبہ میرا یہی ہے کی مصداق ہے یہ ایک حقیقت ہے کیونکہ جہاں تک مذہب کا سوال ہے انسان اور کس چیز کے گرد گھومے گا۔جہاں تک شریعت کا سوال ہے انسان اور کس چیز کو ہدایت کا ذریعہ بنائے گا۔قرآن ہی تو ہے جس نے ہمارے سارے مسئلوں کو حل کر دیا ہے کر رہا ہے اور کرتا رہے گا۔