خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 144 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 144

خطابات ناصر جلد دوم ۱۴۴ اختتامی خطاب ۲۸ ؍دسمبر ۱۹۷۵ء دماغ سے اور ان کی بہبودی کے لئے اپنا سرمایہ خرچ کرتا ہے تو اس حرکت کے مقابل پر دل میں ایک قوت ہے جس کو سخاوت کہتے ہیں پس جب انسان ان تمام قوتوں کو موقع اور محل کے لحاظ سے استعمال کرتا ہے تو اس وقت ان کا نام خلق رکھا جاتا ہے۔اللہ جل شانہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے۔اِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ ( القلم : ۵ ) یعنی تو ایک بزرگ خلق پر قائم ہے۔سواسی تشریح کے مطابق اس کے معنے ہیں یعنی یہ کہ تمام قسمیں اخلاق کی سخاوت ، شجاعت، عدل، رحم، احسان ،صدق، حوصلہ وغیرہ تجھ میں جمع ہیں۔غرض جس قدر انسان کے دل میں قوتیں پائی جاتی ہیں جیسا کہ ادب، حیاء، دیانت، مروت، غیرت، استقامت، عفت، زہادت، اعتدال، مواسات یعنی ہمدردی، ایسا ہی شجاعت ، سخاوت، عفو، صبر، احسان،صدق ، وفا وغیرہ جب یہ تمام طبعی حالتیں عقل اور تدبر کے مشورہ سے اپنے اپنے محل اور موقع پر ظاہر کی جائیں گی تو سب کا نام اخلاق ہوگا اور یہ تمام اخلاق در حقیقت انسان کی طبعی حالتیں اور طبعی جذبات ہیں اور صرف اس وقت اخلاق کے نام سے موسوم ہوتے ہیں کہ جب عمل اور موقعہ کے لحاظ سے بالا رادہ ان کو استعمال کیا جائے۔“ ( اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلده اصفحه ۳۳۲ ۳۳۳) پس یہ جو طبعی حالتیں ہیں یعنی وہ تمام جوارح اور وہ تمام قوتیں اور طاقتیں اور استعداد میں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کو ملی ہیں ان سب کو مہذب اور با اخلاق بنانے کے لئے قرآن کریم نے احکام دیئے اور آداب سکھائے ان قوتوں کو روحانی مدارج کے حصول کی طرف لانے کے لئے تعلیم عطا کی اور اس طرح ایک گرے ہوئے انسان کو گراوٹ کے مقام سے اٹھا کر خدا تعالیٰ کی گود تک پہنچا دیا یہ بنی نوع انسان پر اسلام کا ایک بہت بڑا احسان ہے۔غرض جیسا کہ میں نے بتایا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرمودات کی رو سے دو بنیادی قسم کے اخلاق میں ایک ہے ترک شر اور ایک ہے ایصال خیر۔میں یہ بھی بتا چکا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کی out lines بیان کی ہیں یعنی آثار بتا دیئے ہیں ان کی تشریح میں آگے چل کر بیان کروں گا اب ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ ہم نے کیا کچھ کرنا ہے اور کیا کچھ نہیں کرنا چاہئے۔جہاں تک ان اخلاق کا تعلق ہے جو ترک شر کی قسم کے ہیں یعنی یہ کہ ہماری طاقتوں کو آسمانی تعلیم نے اس طرح