خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 135
خطابات ناصر جلد دوم ۱۳۵ اختتامی خطاب ۲۸ ؍ دسمبر ۱۹۷۵ء جب یہ تمام قوتیں اس کی خدا تعالیٰ کی راہ میں لگ جائیں اور اس کے زیر حکم واجب طور پر اپنے اپنے محل پر مستعمل ہوں اور کوئی قوت بھی اپنی خودروی سے نہ چلے یہ تو ظاہر ہے کہ نئی زندگی کامل تبدیلی سے ملتی ہے اور کامل تبدیلی ہرگز ممکن نہیں جب تک انسان کی تمام قو تیں جو اس کی انسانیت کا نچوڑ اور لب لباب ہیں اطاعت الہی کے نیچے نہ آجائیں اور جب تمام قوتیں اطاعت الہی کے نیچے آ گئیں اور اپنے نیچرل خواص کے ساتھ خط استقامت پر چلنے لگیں تو ایسے شخص کا نام مسلمان ہوگا است بیچن روحانی خزائن جلده اصفحه ۱۴۷، ۱۴۸) پس یہ تو جیسا کہ میں نے بتایا ہے ایک آئیڈیل ہے اور ہر مسلمان کو یہ کوشش کرنی چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ کے جو احکام ہیں ان کے ماتحت اپنی زندگی گزارے اور اپنی تمام طاقتوں کو خدا تعالیٰ کے حوالے کر دے۔اگر وہ یہ مطالبہ کرے کہ اس کی راہ میں جان قربان کی جائے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی طرح اپنی گردن چھری کے نیچے رکھ دے اور جب خدا تعالیٰ یہ کہے کہ نہیں ! میں نے تمہاری جان تو نہیں مانگی تھی۔میں نے تو یہ کہا تھا کہ اپنی زندگی کا ہر لمحہ میری راہ میں قربان کر دو تو اس پر بھی وہ لبیک کہیں۔یعنی وہ یہ کہیں کہ ہم اس پر بھی ایمان لائے۔اس پر بھی اسلام لائے اور جہاں تک حقوق اللہ کا سوال ہے یہ بھی ایک اہم مضمون ہے اس کی تفاصیل کو جماعت کے سامنے بیان کرنا بہت ضروری ہے لیکن اس وقت اس کی تفصیل میں جائے بغیر اسے تقریر میں شامل کرتے ہوئے میں آخر میں ایک عظیم جہاد کا اعلان کروں گا۔اسلام کا دوسرا حصہ حقوق العباد کی ادائیگی ہے حقوق العباد کی ادائیگی کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔إِنَّمَا بُعِثْتُ لا تَمِّمَ مَكَارِمَ الاخلاق ( الثفاء - الباب الثانی ) کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مکارم اخلاق کو کامل کر دینے کے لئے اور ان کے اتمام کے لئے بھیجا گیا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے علاوہ تو کچھ نہیں لائے مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کی ساری تعلیم انسان کی ساری قوتوں اور استعدادوں کے متعلق انسان کی رہنمائی کرتی ہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں انسانی زندگی کے ہر پہلو میں ایک عظیم انقلاب نمودار ہوا کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔وہ باتیں جو اس وقت ہمارے اکثر دوستوں کے علم میں نہیں آتیں ان پر بھی صحابہ کا