خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 127 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 127

خطابات ناصر جلد دوم ۱۲۷ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۵ء اپنے منصوبہ کو کامیاب کرنے کی سہولتیں پیدا کر رہے ہیں۔جیسا کہ صد سالہ جو بلی کے ایک منصوبہ یعنی سویڈن کی مسجد سے ظاہر ہے۔میں نے غالباً پہلے کسی خطبہ میں بھی بتایا تھا چونکہ جلسہ میں ساری جگہوں سے دوست آئے ہوئے ہیں اس لئے اب پھر بتا دیتا ہوں جس وقت ہم مسجد کے افتتاح کے لئے لندن سے روانہ ہوئے تو انگلستان میں اتنی تیز موسلا دھار بارش ہو رہی تھی کہ وہاں ایسی بارش کم ہی ہوتی ہے اور جب ہم اگلے دن شام کو وہاں پہنچے تو میں نے موسم کے متعلق پتہ لیا کہ موسمی پیشگوئیاں کرنے والوں کی کیا رائے ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ اگلے دو تین دن بڑی بارش ہوگی اور موسم اچھا نہیں ہوگا بلکہ خراب رہے گا اور دھوپ نہیں نکلے گی۔میں نے پہلے ایک دعا کی لیکن پھر میں نے سوچا کہ وہ دعا ٹھیک نہیں ہے۔میں نے یہ دعا کی تھی کہ اے خدا ہم تیری مسجد کے افتتاح کے لئے آئے ہیں تیری مسجد ہے تو موسم ٹھیک کر دے یعنی بیچ میں اپنا حصہ رکھ لیا۔پھر میں نے سوچا کہ یہ تو غلطی کی ہے چنانچہ پھر اس کے بعد میں نے یہ دعا کی کہ اے خدا! تیرے گھر کی بنیا در رکھنے کے لئے ہم اکٹھے ہو رہے ہیں قرآن کریم کہتا ہے کہ اَنَّ الْمَسْجِدَ لِله (الحسن : ۱۹) کہ مسجد اللہ کا گھر ہے اور مسجد پر کسی اور کی ملکیت اسلام تسلیم ہی نہیں کرتا۔اَنَّ الْمَسْجِدَ لِلہ۔پس تیرے گھر کی تیری عبادت گاہ کی بنیاد رکھنے کے لئے جس موسم کی تیرے نزدیک ضرورت ہے وہ ہمیں دے دے۔صبح جب ہم اٹھے تو ڈرتے ڈرتے دیکھنا شروع کیا کہ باہر موسم کیسا ہے دیکھا تو باہر دھوپ نکلی ہوئی تھی۔یعنی اس وقت آسمان صاف تھا۔چنانچہ ہم وہاں گئے اور دھوپ میں وہ سارافنکشن ہوا۔وہ بالکل Out of the way جگہ ہے۔دنیا کے ایک طرف پڑی ہوئی ہے لیکن وہاں پر عیسائی بھی آئے ہوئے تھے اور وہاں تین سو سے زیادہ احمدی تھے وہاں ہمارا آرکیٹیکٹ (Architect) بھی تھا اس کو بڑا سخت انفلوئنزا ہوا ہوا تھا اور اسی حالت میں وہ شوق میں اٹھ کر آ گیا اور مجھے بھی انفلوئنزا لگا دیا۔وہاں ٹھیکیدار بھی تھا۔عیسائیوں کی کچھ ایسوسی ایشنز کے لیڈر بھی یہ تقریب دیکھنے کے لئے آئے ہوئے تھے۔وہاں پر یوگو سلاو تھے، سویڈیش تھے، جرمن تھے، ڈنمارک کے احمدی تھے اور ناروے کے ملک کے اپنے احمدی تھے۔غرض وہاں پر یورپین ممالک کے اپنے احمدی تھے جو لوگ وہاں جا کر بس گئے ہیں ان میں سے احمدی تھے اور جو وہاں کام کر رہے ہیں وہ احمدی تھے وہ