خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 128 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 128

خطابات ناصر جلد دوم ۱۲۸ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۵ء سب وہاں اکٹھے ہو گئے تھے۔خدا تعالیٰ نے ہمیں بڑا اچھا موسم دیا۔ہم نے کہا لو! ہم نے خدا سے یہ کہا تھا کہ تیرے گھر کے لئے جس قسم کے موسم کی تیرے نزدیک ضرورت ہے وہ ہمیں دے دو ہم اپنا گھر تو بنانے نہیں جار ہے اور خدا تعالیٰ نے ہمیں بڑا اچھا موسم دے دیا۔وہاں انہوں نے ایک خیمہ لگایا ہوا تھا اس ڈر سے کہ بارش ہوگی تو کام خراب نہ ہو جائے لیکن اس کی بھی ضرورت نہیں پڑی۔پھر وہاں پر کچھ مسلمانوں نے اس کام میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی۔وہ ابھی سمجھتے نہیں انھم لا يعلمون۔اس واسطے ایسی بات سن کر ان کے لئے دعائیں کیا کرو۔ایسی بات میں اس واسطے نہیں بتاتا کہ آپ کو غصہ چڑھے بلکہ اس لئے بتاتا ہوں کہ باجع والی کیفیت جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں پیدا ہوئی تھی وہ آپ کے دلوں میں بھی ان کے لئے پیدا ہو اور آپ ان کے لئے تڑپ کر دعائیں کریں۔انہوں نے کہا کہ یہ تو تھوڑے ہیں ان کو کیوں زمین دے رہے ہو ہم زیادہ ہیں ہمیں زمین دو۔ایک احمدی کو پتہ لگاوہ کارپوریشن کے دفتر میں پہنچ گیا اس نے کہا بات یہ ہے کہ یہ ٹھیک ہے کہ ہم تھوڑے ہیں اور وہ زیادہ ہیں لیکن ان سے یہ پوچھو کہ اگر تم نے ان کو زمین دے دی تو کیا وہ احمدیوں کو اپنی مسجد میں نماز پڑھنے دیں گئے ؟ وہ نہیں پڑھنے دیتے اور ہماری یورپ کی ساری مساجد میں جس فرقے کا جو شخص بھی نماز پڑھنے کے لئے آئے وہ نماز پڑھ سکتا ہے۔بعض موقعوں پر عید کی نماز کے لئے دو دو ہزار غیر احمدی وہاں آئے ہیں اور انہوں نے وہاں نمازیں پڑھی ہیں۔کوئی جھگڑانہیں ہوتا۔اس واسطے اگر تم نے ان کو زمین دی تو پھر بھی تم کو ہمیں زمین دینی پڑے گی کیونکہ ہمیں تو انہوں نے اپنی مسجد کے اندر گھنے نہیں دینا لیکن اگر ہمیں زمین دی تو پھر ان کو دینے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہماری مسجد کے دروازے ان کے لئے کھلے ہیں وہ بڑی خوشی سے آئیں اور نماز پڑھیں۔ان کو یہ مسئلہ سمجھ آ گیا۔انہوں نے کہا اچھا آپ تو لیں ان کے ساتھ ہم بعد میں نپٹ لیں گے۔یہ بھی خدا کی شان ہے۔وہ خود ہی عقل اور فراست عطا کرتا ہے۔بہر حال یہ ہمارے مسلمان بھائی ہیں۔وہ ہمیں جو مرضی سمجھیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہم انہیں اپنے مسلمان بھائی سمجھتے ہیں یعنی وہ امت محمدیہ کے فرد ہیں لیکن انہوں نے غلطی کی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ عظیم فرزند روحانی جس کے ذریعہ سے آج اسلام غالب آیا ہے اس کو ابھی پہچانتے نہیں۔خدا کی تقدیر تو بہر حال پوری ہوگی۔یہ نہیں پہچانتے تو ان کی نسلیں پہچا نہیں