خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 123 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 123

خطابات ناصر جلد دوم ہے۔۱۲۳ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۵ء نقشے کے مطابق اب اس کا ایک حصہ بن گیا ہے لیکن جتنی ہمیں ضرورت ہے اس کے مطابق دوسرا حصہ شاید جماعت خود بنائے کیونکہ اس پر جتنا خرچ آتا ہے ان کی اگلے دو تین سال میں اتنی آمد نہیں ہے۔نصرت جہاں ریزروفنڈ ! جلسہ سالانہ ۱۹۷۳ء کے موقع پر میں نے اس کی تحریک کی تھی۔شروع میں کم رقم کی تحریک کی تھی لیکن بعد میں میں نے کہا تھا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے جتنے سال ہیں اتنے لاکھ روپیہ جماعت جمع کر دے۔اللہ تعالیٰ نے جماعت کو تو فیق دی اور جماعت نے اس میں ترپن لاکھ ترپن ہزار روپے ادا کئے ( یہ رقم ادا کی کیونکہ وعدوں کا وقت تو گزر چکا ہے) چنانچہ نصرت جہاں کا کل سرمایہ ترین لاکھ ترین ہزار کچھ سو ہے۔جو دوست فضل عمر فاؤنڈیشن میں مختلف کمپنیوں کے حصص خرید کر اس کے نفع سے دینی کام کرنا چاہتے تھے انہوں نے مجھے بھی یہی مشورہ دیا۔میں نے انہیں کہا کہ بات یہ ہے کہ جس سے میں تجارت کرتا ہوں وہ تو آٹھ فی صد یا دس فی صد یا بارہ صد فی نفع نہیں دیتا اور کمپنیوں میں تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ دو سال نفع دیں اور تیسرے سال گھاٹا ظاہر کریں لیکن جس سے میں تجارت کرنا چاہتا ہوں وہ تو بغیر حساب دینے والا ہے پس میں تو اسی سے تجارت کروں گا چنانچہ کئی آدمیوں کی طبیعتوں میں انقباض پیدا ہوا کہ تر تین لاکھ کا سرمایہ ہو اور میں کہوں کہ ضرورت کے مطابق خرچ کرتے چلے جاؤ۔کئی دوستوں نے سوچا کہ یہ کیا ہوگا۔بعض مجھ سے دبی زبان میں ذکر کر دیتے تھے کہ بعد میں آپ کیا کریں گے۔اس طرح تو روپیہ ختم ہو جائے گا لیکن جس سے میں نے تجارت کی اللہ اکبر ( حضور نے نعرہ لگایا ) اس نے ہمارے اعتماد کو اس طرح پورا کیا کہ افریقہ میں ہسپتالوں کی خالص بچت ملا کر نصرت جہاں ریزروفنڈ کی کل وصولی ایک کروڑ ستاسی لاکھ روپیہ ہوئی۔ہسپتالوں سے آمد کی میں وضاحت کر دوں۔نصرت جہاں کے ڈاکٹروں نے افریقہ میں کئی لاکھ غریبوں کا مفت علاج کیا ہے یعنی تشخیص بھی مفت کی اور دوائیاں بھی مفت دیں اور بعض لوگوں کی تشخیص مفت کی اور دوائی کی قیمت کا ایک حصہ لے لیا لیکن جیسا کہ میں ابھی بعض اقتباس پڑھ کر سناؤں گا۔اللہ تعالیٰ کے فرشتوں نے بڑے