خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 117
خطابات ناصر جلد دوم ۱۱۷ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۵ء وقت کسی کو نہیں پتہ تھا کہ دنیا میں کیا ہونے والا ہے۔۱۹۴۴ء میں ہمارے رجسٹروں میں پہلا غیر ملکی چندہ درج ہوا۔دس سال تک تحریک جدید ہندوستان کے احمدیوں کے چندے کے ذریعہ وہاں کام کرتی رہی۔مخلصین دن رات ایک کر کے خدمت میں لگے ہوئے تھے سکول کھول رہے تھے اور مسجدیں بنارہے تھے۔چنانچہ ویسٹ افریقہ میں کئی سو مساجد بن چکی ہیں۔پھر میڈیکل سنٹرز کا سلسلہ شروع ہوا یعنی ڈاکٹر بھیج کر علاج کرنے کا سلسلہ تحریک جدید کے غالباً تین سنٹر ہیں اور اب نصرت جہاں کے سولہ سنٹر ہیں۔ان کے ذریعے لاکھوں آدمیوں کا مفت علاج ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ نے بڑی برکت ڈالی ہے اتنی برکت ڈالی ہے کہ وہاں خدا تعالیٰ کی قدرتوں کی جو شان ظاہر ہوئی ہے اس کو آپ تصور میں نہیں لا سکتے لیکن میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ اس میں آپ کے لئے کوئی فخر نہیں ہے یہ خدا کی قدرت کے نشان ہیں جو آپ نے بھی دیکھے اور میں نے بھی دیکھے اور افریقہ میں بسنے والے احمدیوں نے بھی دیکھے اور ان لوگوں نے بھی دیکھے جو تقریر کے ہر دو فقرے کے بعد کہتے تھے کہ میں احمدی نہیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔اکہتر مبلغین باہر کام کر رہے ہیں اور امسال یعنی ۱۹۷۵ء میں بیرونی ممالک میں انتیس نئی جماعتیں قائم ہوچکی ہیں۔الحمد للہ۔پانچ سو کے قریب مساجد تحریک جدید کے ذریعے بن چکی ہیں۔اب میں سویڈن میں ایک مسجد کی بنیا در کھ کر آیا ہوں اس میں بھی ہم نے خدا تعالیٰ کے بڑے نشان دیکھے ہیں۔اس مادی دنیا میں بھی خدا نے اپنی رحمت سے تغیر پیدا کیا تا کہ ہمیں تکلیف نہ پہنچے اور اخلاقی دنیا میں جو غیر اخلاقی روکیں تھیں ان کو دور کیا تا کہ خدا کے نام کو بلند کرنے کے لئے جو گھر وہاں تعمیر ہو رہا ہے اس کے راستے میں کوئی روک نہ ہو۔ان لوگوں کو اسلام سے کیا تعلق یا پیارا اور محبت لیکن انہوں نے ایک پہاڑی کی چوٹی پر ڈیڑھ ایکٹر زمین ہمیں لیز (Lease) پر دے دی ہے جہاں سے سارا شہر ہمیں نظر آتا ہے۔یہ سال ختم ہو رہا ہے اب اگلا سال آیا کہ آیا اس میں ٹھیکیدار نے ہم سے وعدہ کیا ہے کہ میں کوشش کروں گا کہ جولائی تک کام مکمل ہو جائے تو جولائی میں انشاء اللہ تعالیٰ وہاں مسجد ہو گی مینارہ ہوگا اور اس میں روشنیاں ہوں گی اور جس طرح اُس جگہ سے ہمیں سارا شہر نظر آ رہا ہے اسی طرح سارے شہر کو وہ مسجد نظر آئے گی اور یہ خدا کی شان ہے۔ایک ایسے ملک میں کہ جن کو مذہب کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں ہے وہاں خدا تعالیٰ اپنے نام کو بلند کرنے کے لئے