خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 102
خطابات ناصر جلد دوم ۱۰۲ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۵ء سے عطا کردہ ذہن ہو لیکن وہ قوم اس ذہن کو ضائع کر دے تو نہ صرف یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ناشکری قوم ہے بلکہ وہ اپنے ملک کو نقصان پہنچانے والی قوم ہے کیونکہ اس ذہن سے اس نے فائدہ نہیں اٹھایا۔یہاں بدقسمتی سے بعض لوگوں نے ہمارے بچوں کی تعلیمی اور ذہنی نشوونما میں روکیں ڈالنی شروع کر دی ہیں۔ساری پاکستانی قوم پر اس کا الزام نہیں ہے کیونکہ میں جانتا ہوں کہ لاکھ میں سے ننانوے ہزار پاکستانی ایسے ہیں جو ان چیزوں کو پسند نہیں کرتے لیکن ان کی آواز کی طرف کوئی کان نہیں دھرتا۔پس اس وجہ سے کہ کہیں اس کے رد عمل کے طور پر جماعت احمدیہ کی ذہنیت کو زنگ نہ لگ جائے آج میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ ایک سکالرشپ جو ایک ذہین بچے کے لئے انگلستان کے امام نے ابھی مجھے پیش کیا ہے اس کو میں کسی احمدی ہونہار بچے کے لئے استعمال نہیں کروں گا بلکہ میں اسے اوپن میرٹ سکالرشپ (Open Merit Scholarship) بناتا ہوں کہ جس میں شیعہ بھی اور دیو بندی بھی اور بریلوی بھی اور احمدی بھی اور دوسرے لوگ بھی آئیں اور جو اپنی کوالیفیکیشن (Qualification) اور اہلیت کے لحاظ سے برتر و اعلیٰ ہوگا اس کو جماعت ساٹھ پاؤ نڈ یعنی قریباً ڈیڑھ ہزا ر وپے کا سکالرشپ دے دے گی۔یہ ایک تو اس لئے کہ میں جماعت احمدیہ کو بداخلاقی سے بچانا چاہتا ہوں اور یہ میرے فرائض میں سے ہے اور دوسرے اس لئے کہ شاید اس کے نتیجہ میں اس ملک کے رہنے والے ہمارے بھائی جو ہیں ان کو یہ احساس ہو کہ اس قسم کی حرکتیں جو بعض دفعہ بعض لوگوں کی طرف سے کی جاتی ہیں درست نہیں ہیں اور ان کے خلاف مؤثر آواز اٹھے۔یہ دو باتیں میرے پیش نظر ہیں۔یہ ۱۹۷۶ء کا سکالرشپ ہے یعنی ۱۹۷۶ء میں ایم۔اے، ایم۔ایس سی کرنے والوں کا سکالرشپ ہے اس کے لئے ہماری کمیٹی ایک خاص معیار مقرر کرے گی جو سب کے لئے برابر ہو گا جو بچے اس مقابلہ میں آئیں اور جو اس کم از کم معیار سے اونچی قابلیت رکھنے والے ہوں خواہ وہ کسی عقیدہ کے ہی کیوں نہ ہوں ان میں سے جو سب سے زیادہ قابل ہو گا اس کو وظیفہ دے دیا جائے گا۔یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ اس کا تعلق دیوبندی فرقہ سے ہے یا اہل حدیث سے ہے یا شیعہ فرقہ سے ہے یا بریلوی فرقہ سے ہے یا احمد یہ جماعت سے ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آئندہ سالوں میں اس قسم کے اوپن میرٹ سکالرشپ جن میں عقیدہ نہیں بلکہ اہلیت کو مد نظر رکھا جائے گا۔بڑھتے رہیں گے