خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 101
خطابات ناصر جلد دوم 1+1 دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۵ء یہ ہے کہ جماعت احمدیہ میں ایسے ذہین اور ہونہار نوجوان ہونے چاہئیں جن کی صحیح رنگ میں تربیت کی جائے اور وہ دین اسلام سے کما حقہ واقف ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب پر ان کو عبور ہو اور وہ اس قابل ہوں کہ دنیا کا کوئی عالم ، خواہ وہ کسی سائنس یا علم سے تعلق رکھنے والا ہی کیوں نہ ہو جب ان سے بات کرے تو وہ اس بشارت کے مطابق اس کا منہ بند کرنے والے اور اسلام کی عزت کو دنیا میں قائم کرنے والے ہوں۔اس طرف بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اس کے لئے ذہن میں بہت سی تجاویز ہیں ان میں سے ایک تجویز یہ ہے کہ ہم ان علوم کو سیکھنے کے لئے جو کہ پاکستان سے باہر یا افریقہ سے باہر (افریقہ سے بھی ہمارے سکالر باہر جائیں گے ) یا انڈونیشیا سے باہر سیکھے جاسکتے ہیں نوجوان تیار کریں۔مثلاً کئی علوم امریکہ میں سیکھے جا سکتے ہیں، انگلستان میں سیکھے جا سکتے ہیں، یورپ میں سیکھے جا سکتے ہیں ، رشیا میں سیکھے جا سکتے ہیں ، چین میں سیکھے جا سکتے ہیں۔ان علوم پر عبور حاصل کرنے کے لیے ہم نوجوان تیار کریں جن کو جماعت وظیفہ دے اور ان کو وہاں پڑھائے اور وہ اپنے آپ کو صرف اس کام کے لیے وقف کریں یہ نہیں کہ وہ یہاں آ کر ہمارے دفتروں میں کام کریں۔بلکہ ان کو یہ کہا جائے گا کہ تمھارا کام یہ ہے کہ تم اپنے دائرہ عمل میں اس علم کے ساتھ تعلق رکھنے والے چوٹی کے علماء کے ساتھ جا کر بات کرو اور ان کو کہو کہ تم یہ کہتے ہو اور اسلام یہ کہتا ہے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بشارت دی ہے ان کو کہو کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں آسمانوں سے ایسا نور فراست اور ایسے علوم عطا کئے ہیں کہ جن کے مقابلے میں تم ٹھہر نہیں سکتے۔میں نے اپنے دوروں میں بڑے بڑے ہارڈ کور کمیونسٹ یعنی بڑے پکے اور سخت قسم کے اشتراکیوں سے بھی باتیں کی ہیں اور سوائے سر جھکا کے سننے کے ان کو یہ ہمت نہیں پڑتی تھی کہ وہ سامنے آ کر بات کریں یا اس کی تردید کریں یا اس کا جواب دیں۔یہ بات میں صرف اس لیے کہہ رہا ہوں کہ یہ ممکن ہی نہیں ہے۔اس ضمن میں ایک اور بات ہے جو کہ میرا خیال تھا کہ میں آخر میں کہوں گا لیکن اسی وقت کہہ دیتا ہوں۔خدا کا بے انتہا شکر ہے کہ احمدیت میں ذہین بچے پیدا ہور ہے ہیں ان ہونہار بچوں کو سنبھالنا ہمارا کام ہے اور ان سے فائدہ اٹھا نا ساری قوم کا کام ہے۔اگر کسی ملک میں خدا کی طرف