خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 87 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 87

خطابات ناصر جلد دوم AL افتتاحی خطاب ۲۶ ؍دسمبر ۱۹۷۵ء دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کو ہمارے حق میں بھی قبول کرے افتتاحی خطاب جلسه سالانه فرموده ۲۶ دسمبر ۱۹۷۵ء بمقام ربوه تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔ہماری دعائیں سورۃ فاتحہ سے شروع ہوتی ہیں۔سورۃ فاتحہ جو کہ پہلی سورۃ ہے اس میں اتنی زبر دست دُعائیں ہیں اور اتنی وسیع دُعائیں ہیں کہ ان کی وسعتوں میں تو اس مختصر سے وقت میں میں نہیں جا سکتا لیکن اس وقت کی دُعا بہر حال سورۃ فاتحہ سے ہی شروع کرتا ہوں۔اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ کی چار بنیادی صفات کا ذکر ہے جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے امہات الصفات کہا ہے۔یعنی ہمارا اللہ رب العالمین ہے۔ہمارا اللہ رحمن ہے۔ہمارا اللہ رحیم ہے۔ہمارا اللہ مالک یوم الدین ہے اور ہمیں یہ حکم ہے کہ تَخَلَّقُوا بِأَخْلاقِ اللهِ (التعريفات جلد اصفحہ ۲۱۶) کہ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کا رنگ اپنے پر چڑھاؤ۔اور پھر سورۃ فاتحہ میں یہ ذکر ہے کہ یہ جو اللہ تعالیٰ کی بنیادی صفات ہیں ان صفات کا رنگ اپنے اوپر چڑھاؤ۔ان صفات کے جلووں کے نتیجہ میں انسان کو بہت سی طاقتیں اور استعداد میں حاصل ہوتی ہیں۔اس لئے اِيَّاكَ نَعْبُدُ (الفاتحة :۵) میں ہمیں یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ خدا سے یہ دُعا کرو کہ اے خدا جو قو تیں اور استعداد میں تُو نے دی ہیں انہیں احسن اور بہتر رنگ میں استعمال کرنے اور ان استعدادوں سے پورے طور پر فائدہ اُٹھانے کی ہمیں تو فیق عطا کر پھر چونکہ انسان ہمیشہ کی ترقیات کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔اس لئے اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحة : ۵) یعنی اے خدا جو کچھ تو نے دیا ہے اس سے جب ہم پورا فائدہ اُٹھا لیں تو وہ ہماری آخری منزل تو نہیں ہے اس کے بعد مزید منزلوں نے آنا ہے۔پس ان کے