خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 65 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 65

خطابات ناصر جلد دوم اختتامی خطاب ۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۴ء طرح وہ مسئلے حل کرتے ہیں۔انسانی عقل پر نہیں چھوڑا۔انسان کو اللہ تعالیٰ کی راہنمائی کی ہر وقت اور ہر آن ضرورت تھی۔خدا نے بشارت دی اور پیار سے کہا کہ میں تمہاری راہنمائی کروں گا تم میرا دامن نہ چھوڑنا۔یہ ہے ہمارا عقیدہ قرآن کریم کے متعلق اسے نہ بھولنا اور نہ تباہی آجائے گی دنیا میں تمہی تو ہو جن کو خدا تعالیٰ نے دنیا کی حفاظت کے لئے آج کھڑا کیا ہے تم جو بڑے ہوا سے بھولو نہ اور تم جو بچے اور نوجوان ہو اسے یاد کرو اور یا درکھو، قرآن کریم کے متعلق احمدی کا یہ عقیدہ ہے کہ اس میں ابدی صداقتیں پائی جاتی ہیں اور اس کے جو مکنون اور اسرار روحانی پر مشتمل حصے ہیں وہ اللہ تعالیٰ سکھاتا ہے اور جماعت احمدیہ میں اسی طرح خدا کے مقربین پیدا ہوتے رہیں گے جیسا کہ مہدی علیہ السلام سے پہلے امت محمدیہ میں کروڑوں کی تعداد میں پیدا ہوتے رہے اور وہ انسان کے مسائل حل کریں گے۔خدائی آسمانی نور کے ذریعے عقل کے اندھیروں کے ذریعے نہیں۔یہ ہے ہمارا ایمان اور عقیدہ قرآن کریم کے مطابق۔اس لئے ہم نے تو اپنی عقلیں اپنے دماغوں سے نکال کے قرآن کریم کے قدموں میں لا کے رکھ دی ہیں اور ہم بڑے فخر سے سر اونچا کر کے کہتے ہیں کہ ہمیں کوئی فکر نہیں کہ ہم اپنی عقل پہ بھروسہ کرنے والے نہیں ہم خدا تعالیٰ کے دیئے ہوئے علم پر بھروسہ کرنے والی جماعت ہیں یہ ہمارا عقیدہ ہے دوسروں کا حق ہے کہ کہیں کہ یہ عقیدہ غلط ہے دوسروں کا یہ بھی حق ہے کہ کہیں کہ ہم نہیں سمجھتے کہ تمہارا یہ عقیدہ ہے کسی کو زبر دستی تو نہیں منوا نا لیکن خدا یہ نہ کہے کہ تمہارا یہ عقیدہ نہیں خدا تعالیٰ کے فرشتے تمہارے اندر قرآن کریم کے متعلق یہ زندہ عقیدہ قائم دیکھیں اور اللہ تمہاری یہ ذہنی اور عقلی اور اخلاقی اور روحانی حالت دیکھ کر اپنی رحمتوں سے تمہیں نواز تار ہے۔یہ ہے ہمارا عقیدہ قرآن کریم کے مطابق۔میں بتا رہا ہوں کہ میرا مضمون آج یہ ہے کہ ہمارے عقائد کیا ہیں۔قرآن کریم پر ہم یہ اس قسم کا ایمان رکھتے ہیں میں نے بتایا کہ ہر علم خدا تعالیٰ نے ہی دینا تھا اور قرآن کریم ایک کامل اور مکمل ہدایت کے طور پر ہمارے سامنے آیا ہے۔نمبر ۲۔دوسرا سوال یہ ہے کہ قرآن کریم نے خدا تعالیٰ کا کیا تصور ہمارے سامنے رکھا ہے اور ہمیں اس سے ادھر ادھر نہیں ہونا چاہئے جب ہم کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لائے امنت بالله کیا مطلب ہوتا ہے ہمارا۔تو اللہ تعالیٰ پر جو قرآن کریم نے ہمیں بتایا ہے کہ ایمان لاؤ ہمارا