خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 59 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 59

خطابات ناصر جلد دوم ۵۹ اختتامی خطاب ۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۴ء حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا دانت کے بدلے دانت اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان۔پورے الفاظ تو مجھے یاد نہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت جس وقت نازل ہوئی اس وقت انسانی دماغ گہرائیوں میں جانے کے قابل نہیں تھا۔ابھی ارتقائی مدارج میں سے گذرتے ہوئے وہ اس مقام تک نہیں پہنچا تھا کہ ان باتوں کو سمجھ سکے اس لئے جو دوسری شکل تھی اس ابدی صداقت کی وہ ہمیں وہاں نظر نہیں آتی اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عیسائیوں نے اسلام پر اعتراض کر دیا اور اعتراض انہوں نے اس وجہ سے کیا کہ انہوں نے کہا کہ یہ شریعت تو لعنت بن گئی کیونکہ دانت کے بدلے دانت، اور ہر موقع پر دانت کے بدلے دانت نہیں نکالا جاسکتا۔تو کیا فائدہ ہوا اس سزا کے بتانے کا جو بعض مقامات پر دی ہی نہیں جاسکتی۔مثلاً ایک شخص دوسرے کا دانت نکال دیتا ہے اور اس کے اپنے سارے دانت پہلے ہی نکلے ہوئے ہیں وہ ڈینٹسٹ صاحب نے نکال دیئے ہیں تو اب اس کو دانت نکالنے کی سزا کیسے دی جائے گی۔دانت کے بدلے دانت۔تو قرآن کریم نے جو کامل اور مکمل ہدایت کی شکل میں ہمارے سامنے آیا صرف یہ نہیں کہا کہ دانت کے بدلے دانت بلکہ ایک اصول بیان کر دیا۔جَزَ وَ اسَيْئَةِ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا (الشوری: ۴۱) جیسے کوئی جرم کرے گا ویسی ہی اس کو سزا مل جائے گی۔اپنے حالات کے مطابق انسان کو خدا تعالیٰ نے بعض ڈس کریشن (discretion) دیا کہ ہم نے بعض معین چیزیں تمہارے سامنے رکھ دی ہیں ان کی روشنی میں تم اپنے فیصلے کیا کرو گے اور اس کے اوپر کوئی اعتراض نہیں جب عیسائیوں نے یہ اعتراض کیا کہ شریعت تو لعنت بن گئی ہے۔یہ کیسے ہر حالت میں حاوی ہوگی آپ نے کہا کہ تمہاری شریعت لعنت بنی ہوگی ہماری شریعت تو لعنت نہیں بنی۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جواب دیا ہے۔آپ نے کہا کہ ہمارے قرآن نے تو بات واضح کر دی کہ دانت کے بدلے دانت لیکن جہاں یہ نہ ہو سکے وہاں جَزْوَا سَيِّئَةِ سَيِّئَةٌ مِثْلَهَا (الشوری: ۴۱) اور پھر آگے حکمت بیان کی۔کیونکہ یہ اصل مضمون نہیں ہے میں نے مثال دینی تھی اس لئے ان باتوں کو میں چھوڑتا ہوں تو ابدی صداقتوں کے جو حصے پہلی شریعتوں میں موجود تھے ان کو بھی لے لیا اور ابدی صداقتوں کے جو حصے پہلی شریعتوں میں محفوظ نہیں تھے ان کو بھی لے لیا اور اس طرح اسلام نے اتنی حسین تعلیم ہمارے سامنے رکھ دی ہے کہ یہ بڑے بڑے جو دنیوی لحاظ سے صاحب علم لوگ ہیں ان سے مجھے ملنے کا اتفاق ہوتا ہے