خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 55 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 55

خطابات ناصر جلد دوم ۵۵ اختتامی خطاب ۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۴ء ہمارا ایمان ہے کہ اللہ بے عیب اور پاک ہے اور ہر حمد کا مرجع و منبع اس کی ذات ہے اختتامی خطاب جلسه سالانه فرموده ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۴ء بمقام ربوہ کی تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔جو مضمون میں نے آج کے لئے منتخب کیا تھا۔اس کی اہمیت بہت ہے اور جس قدر انسان اپنی تاریخ پر غور کرتا ہے اتنا ہی اسے یہ احساس زیادہ ہو جاتا ہے کہ اس طرف توجہ نہ کرنے کے نتیجہ میں انسان نے کس قدر دکھ اور مصائب اٹھائے۔مضمون میرا یہ ہے کہ انسان کی فطرت میں آگے ہی آگے بڑھنے کا ایک جذبہ اور ایک قوت رکھی گئی ہے اور اسی فطرتی تقاضے کی وجہ سے بندے کو اپنے قریب کرنے کی خاطر شروع سے ہی انبیاء مبعوث ہوتے رہے اور جب ہم انبیاء کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو ایک کے بعد دوسرا نبی جو آیا اس کی دوضرور تیں ہمارے سامنے آتی ہیں ایک یہ کہ جو تعلیم وہ لے کر آیا اس کی طرف اس کے ماننے والوں نے توجہ چھوڑ دی اور دوسرے یہ کہ ایک قدم اس نے آگے بڑھا دیا اور اس کا کام ختم ہو گیا اب دوسرے نبی کی ضرورت ہوئی تا کہ انسان کی انگلی خدا تعالیٰ کی منشا کے مطابق پکڑ کے وہ اسے ایک قدم اور آگے لے جائے۔لوگ کہتے ! ہیں کہ پہلے نبی سے لے کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک ایک لاکھ سے اوپر انبیاء آئے۔کچھ کو تاریخ انسانی نے محفوظ رکھا اور بعض کو بھلا دیا کیونکہ ان کو یاد رکھنے کی ضرورت اللہ تعالیٰ کے نزدیک باقی نہیں رہی تھی اسی طرح ہوتا چلا آیا پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک کامل شریعت اور ایک مکمل ہدایت لے کر انسان کی طرف مبعوث ہوئے لیکن جہاں انسان کی فطرت میں بے انتہا ترقیات کی خواہش بھی رکھی گئی ہے اور اس کے لئے اسے قو تیں اور استعداد میں بھی عطا کی گئی ہیں۔وہاں اس کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ اگر وہ چاہے بد خواہش اس کے دل میں پیدا ہوتو وہ ترقیات کی طرف آگے بڑھنے کی بجائے تنزل کی طرف گر بھی سکتا ہے اور آزمائش اخلاقی اور روحانی انسان کے ساتھ لگی