خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 47
خطابات ناصر جلد دوم ۴۷ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۴ء کے علاوہ تین لاکھ روپے کی یہ رقم بھی جماعت نے خرچ کی۔مجلس نصرت جہاں : ۱۹۷۰ ء میں جب میں افریقہ کے دورے پر گیا تو گیمبیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے اشارہ ہوا کہ کم از کم ایک لاکھ پاؤنڈ ان ملکوں کی خدمت کے لئے جماعت فوری طور پر خرچ کرنے کا انتظام کرے۔اس وقت میں نے پاکستانی احباب کو بھی اور بیرون ملک کی جماعتوں سے بھی کہا تھا کہ جب خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ ایک لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ خرچ : کرو تو کم از کم وہ ایک لاکھ پاؤنڈ ضرور دے گا۔مجھے جس بات کی فکر ہے وہ یہ ہے کہ میری اور آپ کی طرف سے جو حقیر سی قربانی خدا تعالیٰ کے حضور پیش ہوگی وہ اسے قبول کرتا بھی ہے یا نہیں۔اس کے لئے آپ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں قربانی کی توفیق بھی دے اور اسے قبول بھی فرمائے اور ہم پر اپنی برکتیں نازل کرے۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے فضل فرمایا اندرون اور بیرون پاکستان کی تمام جماعتوں نے اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔اب ذرا خدا تعالیٰ کی برکتیں مشاہدہ ہوں۔میں اس حصہ کو بھی مختصر بیان کروں گا۔میں نے اس ضمن میں احباب جماعت سے یہ کہا تھا کہ میری یہ خواہش ہے کہ جتنے سال حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ہیں ، اتنے لاکھ روپے اس فنڈ میں جمع ہو جائیں۔آج کل کے حساب سے یہ قریباً دولاکھ پاؤنڈ سے زائد رقم بنتی ہے۔چنانچہ میری اس تحریک پر جماعت نے اس وقت تک باون تریپن لاکھ روپے کے قریب رقم دے دی۔ان ترپین لاکھ روپے میں سے اگر ساری کی ساری نہیں تو اسی فیصد موجود ہے اور یہ ترپن لاکھ روپے کی رقم ساری دنیا کے احمدیوں نے دی ہے۔یہ سرمایہ قریباً سارا موجود ہے۔اس میں سے تھوڑا سا خرچ ہوا ہے۔پاکستان سے باہر کی جماعتوں کو اللہ تعالیٰ نے یہ توفیق دی کہ نصرت جہاں آگے بڑھو سکیم کے ماتحت جو کام کئے گئے ان پر پچھلے تین ساڑھے تین سال میں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے فضل سے بیرون پاکستان اور بیرون ہندوستان کی جماعتوں نے اس سکیم پر ایک کروڈ بائیس لاکھ روپے خرچ کئے اور جماعت نے دیا کیا تھا، تریپن لاکھ روپے۔جس میں سے غالباً چالیس لاکھ روپے سے زائد رقم اس وقت نقد موجود ہے اور ایک کروڑ بائیس لاکھ روپیہ باہر کی جماعتوں نے خرچ کر دیا۔وہ روپیہ کہاں سے آیا تھا؟ یہاں کی جماعتوں نے تو وہ روپیہ نہیں دیا تھا۔احباب سوچیں اور