خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 557 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 557

خطابات ناصر جلد دوم ۵۵۷ اختتامی خطاب ۲۸ / دسمبر ۱۹۸۱ء آنے پر وہ ختم ہو گئے۔قیصر کی حکومت تھی آدھی دنیا پر چھائی ہوئی۔کہاں نظر آتی ہے وہ۔چالیس ہزار نے تین لاکھ کی فوج کو پانچ دنوں میں ختم کر کے قیصر کی حکومت کی جڑوں کو ہلا دیا تھا کیونکہ اُس وقت خدا تعالیٰ کا یہی منشا تھا۔تو حقیقی رب ہمارا رب پیدا کرنے والا ہم سے پیار کرنے والا۔ہماری غلطیوں کو معاف کر دینے والا۔درگزر کر کے پھر بھی اپنی رحمتوں سے ہمیں نوازتے رہنے والا ہے۔ابدی اور ازلی طور پر۔اور تیسرے یہ تو حید۔اس معنی میں توحید کہ محبت اور صدق اور صفا کے لحاظ سے تو حید یعنی محبت اور صدق اور صفا شعار عبودیت میں دوسرے کو خدا تعالیٰ کا شریک نہ گرداننا اور اُسی میں، خدا تعالیٰ میں کھوئے جانا۔یہ بھی ایک قسم ہے، ایک پہلو ہے تو حید کا کہ جو محبت خدا سے کرنی ہے وہ کسی فرد واحد اُس کی مخلوق سے نہیں کرنی۔جو صدق وصفا کا معاملہ اُس سے رکھنا ہے جب اُس کا مقابلہ اُس کی لڑائی دوسرے کسی وجود کے ساتھ ہو جائے تو ہمیشہ ترجیح اللہ تعالیٰ کو دے گا خدا کا موحد بندہ۔اور چوتھے یہ کہ اللہ تعالیٰ کو ہر قسم کے تغیر اور فنا سے پاک جاننا۔یہ توحید کے اندر اس طرح آتا ہے کہ صرف یعنی یہ جو کائنات ہے جو ہماری سمجھ میں نہیں آرہا یہ جو مادی ذرات سے بنے ہوئے کائنات میں بھی اتنی وسعت ہے کہ ہمارے دماغ جو ہیں وہاں تک پہنچتے پہنچتے کیا پہنچ ہی نہیں سکتے۔رستے میں ہی میں تھک جاتے ہیں لیکن ان سب پر فتن وارد ہوتی ہے اور تغیر ہوتا ہے دو چیزیں ایک مٹ جانا۔ایک بدل جانا۔اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو ازل سے ابد تک قائم یعنی ہمیشہ سے ہے، ہمیشہ رہے گی اور اس وسیع زمانہ میں ایک لحظہ کے لئے ، ایک سیکنڈ کے لئے بھی کوئی تغیر اس کے اندر نہیں آتا۔جس طاقت کے ساتھ ، جس عظمت کے ساتھ اُس کا وجود اس کی مخلوق نے ہزار کروڑ اربوں سال پہلے دیکھا آج بھی وہی طاقت ہے اُس میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوئی۔وہ خدا آج بھی اپنے بندوں کی اُسی طرح آواز سنتا ہے جس طرح پہلے سنتا تھا بہرہ نہیں ہوا اور وہ خدا اپنے پر جو جانوں کو نثار کرنے والے ہیں اُن سے اسی طرح پیار کرتا ہے جس طرح وہ پہلے کیا کرتا تھا۔کوئی فرق نہیں۔یعنی اس کو ازلی ابدی طور پر تغیر اور فنا سے پاک سمجھنا اور ہر دوسری شے میں تغیر ہمیں نظر آتا ہے اور فنا ہمیں نظر آتی ہے۔کوئی ایسے کیڑے بھی ہیں جن کی ساری زندگی