خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 555 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 555

خطابات ناصر جلد دوم اختتامی خطاب ۲۸ / دسمبر ۱۹۸۱ء اور قائم رہنے والا خدا ہے۔جس خدا کو قرآن کریم پیش کرتا ہے اُس کے لئے زمین و آسمان دلائل سے بھرے ہوئے ہیں۔ابھی پچھلے سالوں میں ایک تحقیق ہوئی ہے نئی۔اور سائنسدان جود ہریت کی طرف ہمیشہ مائل رہتے تھے اُس تحقیق کے بعد انہوں نے یہ اعلان کیا۔دوحصوں میں بٹ گئے۔ایک نے تو کہا کہ ہماری تحقیق ہمیں بتاتی ہے۔(اس کا ئنات کے اندر ان کی تحقیق یہ بتاتی ہے ) کہ اس کا پیدا کرنے والا ایک خُدا ہے اور بعض نے کہا کہ ابھی سوچنے والی بات ہے لیکن شرک پر یا دہریت پر اُن کی پختگی کو اُن کی اپنی تحقیق نے متزلزل نہیں کر دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔( ملفوظات جلد اصفحه ۴۲ ) ” جب تمہارے دل پاک ہو جائیں گے اور ادھر عقل سلیم سے کام لو گے اور تقویٰ کی راہوں پر قدم مارو گے پھر ان دونوں کے جوڑ سے وہ حالت پیدا ہو جائے گی کہ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً سُبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (آل عمران : ۱۹۲) تمہارے دل سے نکلے گا۔اُس وقت سمجھ میں آجائے گا کہ یہ مخلوق عبث نہیں بلکہ صانع حقیقی کی حقانیت اور اثبات پر دلالت کرتی ہے تاکہ ہر طرح کے علوم وفنون جو دین کو مدد دیتے ہیں ظاہر ہوں۔“ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایسی تحریروں نے جماعت احمدیہ کے دماغ پر آگے بڑھنے کے دروازے کھولے اور اسی لئے میں توجہ دلا رہا ہوں اپنے نوجوان ذہین طالب علم کو کہ قرآن پڑھو تا کہ تم علوم دنیو یہ جو کہلاتے ہیں انہیں زیادہ اچھی طرح سمجھ سکو اور علوم دنیویہ کی سٹڈی (Study) کرو تا کہ قرآن کریم کے اسرار تمہیں آسانی سے سمجھ آنے لگیں۔تو حید۔وہ تو باطلا کے متعلق ابھی تک میں کہہ رہا تھا۔لفظ باطل۔وہ سب چیزیں سبحان اللہ میں ہیں کہ اللہ اس سے پاک۔اللہ اس سے پاک۔اللہ اس سے پاک۔اللہ اس سے پاک۔اللہ اس سے پاک۔یادر ہے کہ حقیقی تو حید جس کا اقرار خدا، ہم سے چاہتا ہے اور جس کے اقرار سے نجات وابستہ ہے یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو اپنی ذات میں ہر ایک شریک سے خواہ بُت ہو، خواہ انسان ہو۔خواہ سورج ہو یا چاند ہو یا اپنا نفس یا اپنی تدبیر اور مکر وفریب ہو منزہ سمجھنا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اس لحاظ سے تو حید جو ہے وہ کئی قسموں میں، کئی شکلوں میں ہمارے سامنے آتی۔