خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 542 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 542

خطابات ناصر جلد دوم ۵۴۲ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۱ء تو تعلق پیدا ہونا چاہئے یہ کہنا کہ دنیا ایک خاندان بن جائے گی اور ذمہ واری ہماری ہے اور ہم اپنے آپ کو کٹے ہوئے سمجھیں اور اس بے تعلقی کو دور کرنے کی کوشش نہ کریں تو گنہگار بن جائیں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس گناہ سے بچائے۔آمین پھر اب یہ تصاویر ہیں۔اب میں تو یہاں بیٹھا ہوا ہوں کئی ہزار میل دور۔ان کو میں نے کہا تھا مجھے تصویریں بھیجتے رہو، جس طرح جس طرح مسجد تعمیر ہو۔یہاں میں دوستوں کو دکھاتا ہوں۔جوابھی ہم میں شامل نہیں ہوئے ان کو بھی دکھاتا ہوں۔وہ خوش بھی ہوتے ہیں، حیران بھی ہوتے ہیں۔سپین جیسے ملک میں آپ نے ( مسجد ) بنادی۔اسی طرح پچھلے دورے کی ایک انجان، نا تجربہ کا ر ہا تھ نے وڈیولی تھی وہ بالکل نا تجربہ کا رہاتھ ہے لیکن اس کا بھی بڑا اثر ہے۔وہاں جو خدا تعالیٰ فضل کر رہا ہے جماعت پر، وہ جماعت کے سامنے آتے ہیں۔جماعت خوش ہوتی ہے، درود پڑھتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جن کے طفیل ہمیں سب کچھ ملا ، خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتی ہے۔میں چھوڑتا جاتا ہوں کیونکہ کافی وقت ہو گیا ہے۔دوران تقریر حضور نے بعض بچوں کو جلسہ گاہ میں ادھر اُدھر پھرتے دیکھا تو انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ” جو میرے سامنے بچے " ہیں نا آپ ! بیٹھ جاؤ یا ادھر آ جاؤ میری طرف۔یہاں تین تھے ایک بیٹھ گیا، دوسرا بیٹھنے والا ہے ( پھر فرمایا یہ جو پھرتے ہیں نا یہ گندی عادت کچھ پڑی ہے۔میں نے ان کو کہا ہے کل سے بالکل نہیں پھرنے دینا۔سروں کے اوپر سے پھلانگتے ہوئے ، دوسروں کو تنگ کرتے ہوئے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا ہے کہ اتنا سا بھی رستے کے اوپر گند نہ پھینکو مطلب یہ ہے کہ تکلیف نہ ہو کسی کو اور ایمان کا جز وامَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ۔۔۔مِنَ الْإِيْمَانِ مسلم کتاب الایمان باب شعب الایمان ) اور یہاں جو تنگ کر کے یوں ہٹا کے ، لوگوں کے اوپر سے پاؤں گزار کے، صاف ہیں یا گندے وہ تو اتنی دور سے مجھے نظر نہیں آرہے ، بہر حال میں یہ ضرور محسوس کرتا ہوں کہ اس سے کوفت ہوتی ہے مجھے یہاں دیکھ کے کوفت ہوتی ہے اور جو رضا کار ہیں ان کا کام ہے کہ دو قدم سے زیادہ کوئی شخص آگے نہ جائے۔وہ اس کو وہیں بٹھا دیں سوائے مجبور کے۔مثلاً ایک بوڑھا ہے وہ کہتا ہے مجھے پیشاب آیا میں نے باہر جانا ہے۔اس کو تو نہیں روکنا۔یعنی عقل سے کام کرنا ہے