خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 539
خطابات ناصر جلد دوم ۵۳۹ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۱ء تو یہ سوچا منصوبہ کہ یہاں باہر سے وفود آئیں۔وہ آتے ہیں۔آپ سے ملتے ہیں۔آپ ان کی پانچ پانچ منٹ کی تقریریں بھی سنتے ہیں۔بڑے اچھے ہیں، بڑے پیارے ہیں۔پنجابی میں بڑے یسے ہیں۔خدا تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والے ہیں۔خوا ہیں دیکھنے والے ہیں۔وہ سوکھی ٹہنیاں نہیں ہیں اسلام کی۔وہ ہرے پتوں والی ٹہنیاں ہیں۔نائیجیریا میں میں پچھلے سال تھا۔تھکا ہوا بالکل میں شام کو مجھے انہوں نے کہا ( جہاں ہم ٹھہرے ہوئے تھے اس کے باہر ایک بہت بڑا ایریا کمروں کے سامنے ہی تھا ) کہ وہاں تو دو تین سو افریقن آ گیا ہے اگلے دن شاید ہم نے جانا تھا یا اس سے اگلے دن۔میں نے کہا وہ اب آگئے ہیں تو اچھا نہیں لگتا کہ میں ہی نہ مجھ سے میں چلا گیا ان کے پاس اور بڑا مجھے مزہ آیا۔میں چلا گیا، میں نے ان کو کہا بات یہ ہے کہ میں اتنا تھکا ہوا ہوں کہ میں تمہارے سامنے آدھے گھنٹے ، گھنٹے کی نئی تقریر نہیں آج کر سکتا۔تم مجھ سے باتیں کرو۔خیر وہ پتہ نہ لگے ان کو۔میں نے کہا اچھا میں بتاتا ہوں تم مجھے اپنی کچی خوا ہیں بتانی شروع کرو۔ایک کھڑا ہوا۔پھر دوسرا کھڑا ہوا، پھر تیسر کھڑا ہوا پھر چوتھا کھڑا ہوا، پھر پانچواں کھڑا ہوا۔پھر چھٹا کھڑا ہوا۔کوئی پون گھنٹہ یا گھنٹہ جب گزر گیا تو پھر میں نے کہا اب میں سنتے سنتے بھی تھک گیا ہوں اب مجھے اجازت دیں میں آرام کرلوں۔اتنا فضل کرنے والا۔کیا سمجھا ہے آپ نے اپنے رب کو۔دینے کے لئے تیار ہے آپ لینے کے لئے کیوں تیار نہیں ہوتے۔ایسے ایسے نشان دکھاتا ہے ان ملکوں میں جن قوموں کو یہ یقین تھا کہ ان کو پیار کرنے والا کوئی انسان دنیا میں نہیں ان کو خدائے واحد و یگانہ نے یہ باور کروا دیا کہ ان کو پیار کرنے والا ان کا خدا ہے۔(نعرے) اور خدا کے بندے۔میں جاتا ہوں ان کے بچوں کو اٹھاتا ہوں، سینے سے لگاتا ہوں، پیار کرتا ہوں۔۱۹۷۰ء میں تو میں نے ان کی خوشی کی آواز سنی۔اب ان کو پتہ لگ گیا ہے کہ احمدی احمدی سے پیار کرتا ہے۔اور ہیئت کذائی بدل گئی۔یہ افراد امریکن (Afro-American) ، امریکہ میں ان کے چھوٹے چھوٹے بچے دس بارہ سال کے جو عیسائی ہیں ان میں اتنے گندے کپڑے منہ گندا ما تھا گندا بال گندے، کپڑے گندے۔بد بواتنی آتی ہے پاس نہیں کھڑا ہوا جاتا۔احمدی ہوتے ہی کا یا پلٹ جاتی ہے۔اب جو بچہ میرے سامنے آتا ہے میں اس کو چمٹ جاتا ہوں گلے لگا لیتا ہوں۔مجھے پتہ ہے