خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 43
خطابات ناصر جلد دوم ۴۳ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۴ء ستاروں کا علم تھا جس کا اس نے نام بھی نہیں سُنا ہوا تھا اور اس مضمون کو بیان کر کے میں نے ثابت کیا کہ خدا ایک ہے۔دوسرا مضمون ”Science of chance ، یعنی اتفاق کی سائنس سے متعلق تھا اور اس سے بھی میں نے یہی ثابت کیا کہ خدائے واحد و یگانہ ہے۔خدا کی شان کہ اس کا بھی اس نے نام نہیں سنا ہوا تھا۔جب میں نے ان دو مضامین پر گفتگو شروع کی تو اس کا سر آہستہ آہستہ جھکنا شروع ہو گیا۔جب دعوت ختم ہوئی اور ہم واپس جانے لگے تو اس پادری کا سر میرے سامنے اس طرح جھکا ہوا تھا کہ گویا وہ کسی سے جھک کر مصافحہ کر رہا ہو۔میں یہ دیکھ کر بہت خوش ہوا اور یہ کہتے ہوئے خدا کا شکر ادا کیا کہ اے میرے خدا! میں نے تو تجھ سے یہ دعا مانگی تھی کہ یہ پادری بڑے تکبر کے ساتھ تیرے نمائندہ کے سامنے بیٹھا ہے تو اپنے فضل سے اس کا سر تو حید کے سامنے جھکا دے۔میں تیرا نمائندہ ہوں اور تیرا عاجز بندہ ہوں اور اپنے اندر کوئی خوبی نہیں دیکھتا لیکن یہ تثلیث کا نمائندہ ہو کر اپنے آپ کو کچھ سمجھتا ہے تو نے اپنے تو فضل سے اس کا سر جھکا دیا۔فالحمد للہ علی ذالک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے اور آپ نے کیا ہی درست اور بیچ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری جماعت کے علماء کو اس قدر نور فراست عطا کرے گا کہ نہ صرف یہ کہ وہ اسلام کی برتری دنیا میں ثابت کریں گے بلکہ اسلام کے خلاف تمام مذاہب کا بودا اور جھوٹا ہونا اور کمزور ہونا دنیا پر ثابت کر دیں گے۔چنانچہ علم کی یہ شمع لے کر ہم میدان علم میں اترے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے جو وعدے ہیں وہ پورے ہو رہے ہیں۔میں نے اس ضمن میں ایک چھوٹی سی مثال دی ہے کہ یہ خدا تعالیٰ ہی ہے جو ہمیں ہر موقع پر سکھاتا ہے۔ایک اور مزے دار بات بھی سنا دیتا ہوں۔۱۹۶۷ء میں جب میں یورپ کے دورے پر گیا تو دو عیسائی ایسوسی ایشنز اور ایک ادیبوں کی ایسوسی ایشن نے ڈنمارک میں ہمارے انچارج مبلغ کو ٹیلی فون کیا کہ وہ امام جماعت احمدیہ سے ملنا چاہتے ہیں۔اس وقت میں یورپ کے دوسرے مشنوں کا دورہ کر رہا تھا۔مجھے جب ہمارے مبلغ نے اطلاع دی تو میں نے اسے بذریعہ فون بتایا کہ قلتِ وقت کے پیش نظر میں ان تینوں جماعتوں سے الگ الگ نہیں مل سکتا بہتر ہوگا کہ وہ تینوں جماعتیں اکٹھی ہو کر ایک ہی وقت پرمل لیں۔چنانچہ وہ تنظیمیں اس پر متفق ہو گئیں اور جب میں ڈنمارک پہنچاتو وہ اکٹھی ہو کر مقررہ وقت پر