خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 476
خطابات ناصر جلد دوم دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۰ء اور آپس میں لڑنا شروع کر دیا تو آج سے قریباً ۷۴۴ برس قبل عیسائیوں نے اس حالت کو دیکھ کے قرطبہ اور اس کا نواحی علاقہ جو بہت بڑا تھا اس پر حملہ کیا اور بعض مسلمان نوابزادے جن کو اپنی فکر تھی۔اسلام کی فکر نہ تھی۔وہ عیسائیوں کے ساتھ مل کر اس حملہ میں شامل ہوئے اور ان کی مدد کی اس بات میں کہ یہ علاقہ اسلام کے ہاتھ سے نکل کے عیسائیت کے ہاتھ میں چلا جائے۔اس پر ۴۴ ۷ برس گزر گئے۔اب اس علاقے میں پہلی دفعہ یہ مسجد بنی ہے لیکن جو آخری معرکہ ہوا غرناطہ میں اس پر کچھ کم پانچ سو سال گزرے ہیں۔اس واسطے اخباروں میں ہمارے کبھی پانچ سوسال کے بعد مسجد کی بنیاد رکھی گئی لکھا گیا کبھی سات سو سال کے بعد لیکن جیسا کہ میں نے بتایا قرطبہ جہاں یہ بنیا درکھی گئی ہے ، وہ علاقہ عیسائیوں کے ہاتھ میں چلا گیا جس کے بعد وہاں کوئی مسجد نہیں بنی اس دردناک واقعہ یعنی جو شکست کھانی پڑی اسلام کو اس کے ۷۴۴ برس کے بعد پہلی مسجد کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے فضل سے وہاں رکھی گئی۔جو فضاء وہاں پیدا ہوئی ( جسے الفاظ بیان نہیں کر سکتے ) وہ سوائے خدا کے اور کوئی پیدا نہیں کر سکتا یعنی پیڈ رو آباد جہاں زمین خریدی ہم نے پہلے یہ پوچھ کے کہ مسجد بنانے دو گے یا نہیں۔انہوں نے کہا ٹھیک ہے بنالو۔پھر اس کا نقشہ وغیر ہ Approve ہو گیا۔اور اس دن وہ گاؤں جو تھا اس طرح ہماری خوشی میں شامل تھا جس طرح ان کی عبادت گاہ کی بنیاد رکھی جارہی ہے۔اتنے خوش تھے کہ ان کے چہروں سے خوشی اور مسرت کے دھارے پھوٹ کر باہر آرہے تھے۔یہ ان کے دل کی کیفیت نہ میں پیدا کر سکتا ہوں نہ آپ کر سکتے ہیں۔یہ تو خدا نے پیدا کردی ( نعرے ) اس کی تعمیر پر قریباً ہمیں لاکھ روپیہ خرچ آئے گا یعنی اتنی ہزار پاؤنڈ سٹرلنگ اور یہ سارا خرچ جماعت ہائے احمد یہ انگلستان اپنی صد سالہ جو بلی کی مد سے خرچ کر رہے ہیں۔ہمارے حالات ایسے ہیں کہ ہم مجبور ہیں کہ اس قسم کی نیکیوں میں حصہ نہ لے سکیں جن کا تعلق بیرون پاکستان سے ہے کیونکہ ہمارے ملک کو فارن ایکسچینج کی تنگی رہتی ہے اور باہر پیسہ جانا مشکل ہے بہر حال اللہ تعالیٰ جزا دے ہمارے ان بھائیوں کو جو انگلستان میں رہتے ہیں اور وہ یہ قربانی دے رہے ہیں اور انشاء اللہ اس عظیم کام میں قریباً سارا حصہ جو ہے وہ انہی کا ہوگا معمولی معمولی رقمیں یورپ کے دیگر ملکوں سے بھی آئی ہیں کنٹریکٹ جو ہمارے آرکیٹیکٹ نے تیار کیا ہے۔ان ملکوں میں کنٹریکٹ تیار کرنا پڑتا ہے قانونا، اور اس کی پابندی کرنی پڑتی ہے ہر دو کو، بنانے والے ٹھیکیدار کو بھی