خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 462 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 462

خطابات ناصر جلد دوم ۴۶۲ افتتاحی خطاب ۲۶ دسمبر ۱۹۸۰ء نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک نام خیر مجسم ہے اور اسی کی وجہ سے امت مسلمہ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (ال عمران : 11) قرار پائی یعنی ایسی امت جو دوسروں کی بھلائی اور خیر خواہی کے لئے قائم کی گئی ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔کسی کی برائی نہیں چاہتا۔کسی کو دکھ نہیں پہنچانا، اس دنیا سے جو اس وقت گند میں پھنسی ہوئی ہے، جو اس وقت مصائب میں پھنسی ہوئی ہے۔جو اس وقت دکھوں میں پھنسی ہوئی ہے۔جو اس وقت بے چینی اور بے اطمینانی میں پھنسی ہوئی ہے۔یہ سارے دکھ اور بے چینیاں اور بے اطمینانیاں ہم نے دور کر کے ان کے ماحول میں ، ان کی معیشت میں خوشی اور اطمینان کے سامان پیدا کرنے ہیں تا کہ وہ محسوس کریں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واقع میں اور حقیقی طور پر دنیا کے محسن اعظم ہیں۔اب ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا کرے کہ ہم اپنی ذمہ واریوں کو سمجھنے والے ہوں۔ان کو ادا کرنے والے ہوں۔خدا کے حضور کچھ پیش کرنے والے ہوں اور دعاؤں کے ذریعہ اور دعاؤں کے ذریعہ اور دعاؤں کے ذریعہ ، بے حد دعاؤں کے ذریعہ اس کی رحمت اور فضل کو جذب کرنے والے ہوں۔آمین آؤ دعا کرلیں۔حضور انور کی اقتدا میں اجتماعی دعا ہوئی جس میں تمام حاضرین جلسہ شامل ہوئے۔از رجسٹر خطابات ناصر غیر مطبوعہ )