خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 463 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 463

خطابات ناصر جلد دوم ۴۶۳ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۰ء اصل زندگی کام اور ایسے اعمال کا نام ہے جن سے خدا راضی ہو جائے اور وہ مقبول اعمال بن جائیں دوسرے روز کا خطاب جلسہ سالانہ فرموده ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۰ء بمقام ربوه ده تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔اس وقت تعلیمی میدان میں آگے نکلنے والوں میں سے بعض کو تمغات بطور انعام کے دیئے گئے ہیں۔جو ایک بڑا اور بڑا ہی اہم منصوبہ تعلیم کا میں نے اس سال شروع کیا، اس کی یہ ابتداء ہے اور سالِ رواں میں تمغے حاصل کرنے والوں کی تعداد اللہ تعالیٰ کے فضل سے چودہ بنتی ہے یعنی چودہ احمدی طلبہ وطالبات ایسے ہیں جنہوں نے بورڈ میں یا یو نیورسٹی میں اول پوزیشن یا دوئم یا سوئم پوزیشن حاصل کی ہے۔ان میں سے آٹھ وہ ہیں جنہوں نے اول پوزیشن حاصل کی ہے۔الحمد للہ اور چار وہ ہیں جنہوں نے دوئم پوزیشن حاصل کی ہے اور دو وہ ہیں جنہوں نے سوئم پوزیشن حاصل کی ہے۔یہ ایک چھوٹا سا حصہ ہے اس منصوبہ کا لیکن ایک بڑے منصوبے کا ایک ضروری حصہ ہے۔جو میرا منصوبہ ہے اس کا اہم حصہ دعا ہے۔وہ دعا جو میں نے کی اور کرتا ہوں۔وہ دعا ہے جس میں آپ کو شریک ہونا چاہئے۔جب میں نے اعلان کیا اس سکیم کا ، اس منصوبہ کا تو میں نے یہ دعا بھی کی کہ اے خدا! اگلے دس سال میں جماعت احمدیہ کو ایک سو جینیس (Genius) ذہن عطا کر۔اس کے لئے میں دعائیں کر رہا ہوں اور اس کے لئے آپ سے بھی میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ دعائیں کریں۔فرسٹ آنا یا دوسری یا تیسری پوزیشن لینا بڑی اچھی چیز ہے یعنی بڑا اچھا مقام طالب علم حاصل کرتا ہے لیکن Genius نہیں۔ان میں سے بعض Genius ہوتے ہیں، بعض نہیں ہوتے۔پہلے بھی میں نے بتایا تھا کہ قریباً چار سال ہوئے پنجاب یونیورسٹی سے ایک طالب علم نے ایم ایس سی فزکس میں اتنے نمبر لئے کہ اس کا نتیجہ کچھ عرصہ اس خیال سے روکا گیا کہ اگر اسی طرح