خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 442 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 442

خطابات ناصر جلد دوم ۴۴۲ اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۷۹ء گزشتہ نبی نے اس کی عظمت کا اقرار کیا اور اس کے مقابلے میں اپنے لاشئے ہونے کا اقرار کیا اس اُمّی کے سامنے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اُمی ہونا اور آپ پہ جو کلام نازل ہوا اس کا ایک کامل اور مکمل ہونا اور اتمام نعمت کرنے والا ہونا یہ بتا تا ہے کہ یہ کلام جو ہے اس خدا کی طرف سے نازل ہوا ہے جو اس کی تسبیح کر رہی ہے، ہر وہ چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے اور جو بادشاہ بھی ہے پاک بھی ہے پاکیزگی کا سرچشمہ بھی ہے۔غلبہ کا مالک بھی ہے اور ہر ایک کو اسی کا غلبہ عطا ہوتا ہے وہ حکیم بھی ہے حکمت والا بھی ہے اس کی تعلیم حکمتوں سے بھری ہوئی اس کے نیک بندے اس معنوں میں حقیقی تھے ئی ضرورتوں میں نئی حکمتیں سیکھتے اور دنیا میں محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کی عظمتوں کو بیان کرتے اور اللہ تعالیٰ کی واحدانیت اور اس کی عظمت کے نعر لگانے والے ہیں۔ان آیات میں جو پہلی آیت ہے يُسبّحُ لِلهِ مَا فِي السَّماواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ( الجمعة : ٢) اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ (الجمعة : ۴) کہ یہ ایک نسل یا ایک صدی یا صرف ایک محدود زمانہ کے اندر اس کی برکتیں اور اس کی رحمتیں اور اس کی حکمتیں اور اس کے پاک کرنے اور تزکیہ کرنے کی قوت جو ہے اور اس کا حسن جو ہے وہ ختم نہیں ہو جائے گا کیونکہ اس خدا کی طرف سے اُمی کے اوپر نازل ہوا ہے ایک اور ، جماعتیں اس میں شامل ہوتی رہیں گی۔وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ (الجمعة : ۴) اور آخرین میں بھی ایک جماعت ہے جو انہیں کے ساتھ ، پہلوں کے ساتھ صحابہ کے ساتھ جا ملے گی اور ان کے سپر د جو کام ہوگا وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ( الجمعة : ٤ ) ان کی کامیابیاں غلبہ اسلام کی جد و جہد اور جہاد میں دنیا پر یہ ثابت کریں گی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والا کلام غالب ہستی کی طرف سے نازل ہوا اور اس ہستی کی طرف سے نازل ہوا جو حکیم ہے حکمت والا ہے اور حکمت سکھانے والا ہے پھر جس میں یہ اعلان کیا گیا کہ جب یہ آخرین پیدا ہو جائیں گے تو دنیا میں ایک طمانیت اٹھے گی ، یہ ذلیل لوگ یہ غریب لوگ یہ بے سہارا لوگ یہ بے بس لوگ یہ بے مایہ لوگ جن کی کوئی قدر نہیں ہے جن کا سیاست میں کوئی دخل نہیں اس میں کوئی دلچسپی بھی نہیں۔انہیں کو چنا تھا خدا نے۔اسی واسطے یہاں امتین کا لفظ پہلے پڑھایا گیا کہ جس طرح امتین میں سے ایک کو چنا اور اسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم بنا دیا اسی طرح وہ