خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 443
خطابات ناصر جلد دوم ۴۴۳ اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۷۹ء عزیز اور حکیم خدا آخرین میں سے ایک کو چنے گا اور اسے مہدی بنادے گا اسے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا عظیم روحانی فرزند بنادے گا اور اس حقیر جماعت دنیا کی دھتکاری ہوئی جماعت سے خدا جو قد رتوں والا خدا ہے کام لے گا تاکہ انسان کا دل شیطانی امور سے نہ بھر جائے بلکہ ہر نفس اپنے گریبان میں جھانکے اور اعلان کرے کہ میں خدا کا عاجز بندہ مجھے خود پتا نہیں کہ یہ انقلاب کیسے اور کیوں بپا ہورہا ہے لیکن خدا تعالیٰ کا منشا یہ ہے کہ بپا ہو اور اسلام غالب آئے خدا تعالیٰ نے بشارت دی تھی محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ (الجمعة): ۴) وہ زمانہ آ گیا وہ حالات پیدا ہو گئے انقلاب په انقلاب یہ انقلاب پر انقلاب دیکھنے والی آنکھ دیکھتی ہے کم از کم پندرہ سولہ سال سے کچھ تھوڑا بہت دھند لکا سا تھا پہلے بھی ، میرے دماغ میں۔ہر تبدیلی انسانی زندگی میں اس لئے آ رہی ہے کہ آخر کار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت جو ہے وہ انسان پر ظاہر ہوا اور وہ تبدیلیاں ہم کر رہے ہیں تم کر رہے ہو کون کر رہا ہے ہمارے مرد کر رہے ہیں عورتیں کر رہی ہیں خدا کر رہا ہے خدا کے فرشتے جو انسان کو نظر نہیں آتے وہ آسمانوں سے نازل ہوتے اور دلوں میں تبدیلیاں پیدا کر دیتے ہیں وہ لوگ جن کی زبانیں اسلام کو برا بھلا کہتے تھکتی نہیں تھیں ان کی آنکھوں سے آنسوؤں سے خود میری آنکھوں نے اسلام کی تعریف سننے کے بعد آنسو ٹپکتے دیکھے ہیں۔یہاں پہلی بات پہلا مقصد یہ بتایا گیا يَتْلُوا عَلَيْهِمْ الته (ال عمران : ۱۶۵) یہ جو آیات ہیں یہ خانہ کعبہ کا مقصد بھی ہے ایت بینت چوتھی غرض میں نے بتائی تھی آیت بینت اور میں نے بتایا تھا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کعبہ سے ظاہر ہونے والا نور ایسے نشانات اور تائیدات سماوی کا منبع بنے گا جو ہمیشہ کے لئے زندہ رہیں گے آسمانی نشانوں کا دروازہ ہمیشہ کے لئے کھولا گیا ہے فرما یا بل هُوَایت یہ دوسری آیت ہے قرآن کریم کی بَلْ هُوَايَتٌ بَيْنَتُ في صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ (العنکبوت :۵۰) کہ قرآن کریم کا حقیقی علم رکھنے والوں کے سینوں کے اندرایت بيّنت ہیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں ان کے سینوں میں پیدا ہوئیں اور ہر لحظہ وہاں سے نکلتی اور دنیا کو عظمت قرآنی اور عظمت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بتا رہی ہیں۔آیت کے معنی ہیں يَتْلُوا عَلَيْهِمْ ايته (ال عمران : ۱۶۵) آیات کا مفرد ہے الایہ اور اس کے معنی لغت میں لکھے ہیں ھی العلامة الظاهرة ظاہری علامت ، ہر وہ ظاہری چیز ، ظاہری علامت