خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 436 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 436

خطابات ناصر جلد دوم ۴۳۶ اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۷۹ء تیری امت کے وہ لوگ جو تیری اتباع کریں گے وہ میری محبت کو میرے پیار کو، حاصل کر لیں گے۔تو پھر کہاں سے تم پاتے یہ سب چیزیں فرمایا لَقَدْ مَنَ الله عَلَى الْمُؤْمِنِينَ (ال عمران : ۱۶۵) خدا تعالیٰ نے ان مومنوں پر احسان کیا اِذْ بَعَثَ فِيهِمْ (ال عمران : ۱۶۵) کہ جب ان میں ایک رسول بھیجا ہے جو انہی میں سے ہے يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيته (ال عمران : ۱۶۵) وہی چار مقاصد آگئے جو خدا تعالیٰ کی آیات ان کے اوپر پڑھتا ہے وہ کھول کے ان کے سامنے بیان کرتا ہے اور سمجھاتا ان لوگوں کی طبیعتوں پر اثر پیدا کرتا ہے خیرِ کل جو ہے اس کو وہ قبول کرو اور اس سے استفادہ کرے اور خالی یہ نہیں کہتا کرو بلکہ بتاتا ہے اگر ایسا کرو گے تمہیں فائدہ ہے وَالْحِكْمَةَ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلالٍ مُّبِيْنِ (ال عمران:۱۶۵) اس میں ایک اور چیز بڑی زائد آ گئی کہ وہ باتیں بتا تا ہے جو تمہیں پہلے پتا نہیں تھیں۔اگر چہ تم یقیناً کھلی کھلی گمراہی میں۔راہی میں تھے پہلے لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ پر شریعت قرآنیہ نازل ہوئی ایک عظیم کتاب اور بحر بے کنار جس کا کوئی کنارہ نہیں ہے اتنے علوم اس میں بھرے ہوئے ہیں آگے ہی ، کہ ہر ایک نے اپنی ہمت کے مطابق غوطے لگائے ہر ایک نے اپنی صلاحیت کے مطابق، اس سمندر کی تہہ سے بڑے قیمتی موتی اور جواہرات نکالے خدا کا احسان ہے اگر یہ نہ ہوتا تو تم خدا کے پیار کو حاصل نہ کر سکتے ، اس کی ترتیب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی دعا میں ترتیب یہ رکھی تھی تو ایسا رسول آئے جو ان کو تیری آیات پڑھ کر سنائے پہلے آیات وَيُعَلِّمُهُمُ الكتب پھر کتاب کا ذکر وَالْحِكْمَةَ پھر حکمت کا ذکر اور اس کے بعد چوتھی بات حضرت ابراہیم کی دعا میں تزکیہ نفس کا ذکر لیکن جو قبولیت دعائے ابراہیمی ہے اس میں اس ترتیب کو بدل دیا گیا اور اس میں یہ کیا گیا کہ آیات پڑھ کے سنائے اور ان کا تزکیہ کرے۔پھر کتاب سکھائے اور حکمت سکھائے اور اس میں علاوہ اور بہت سارے مضمون کے جن سے قرآن بھرا پڑا ہے ایک حکمت یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو ترتیب اختیار کی اس وقت کی ہدایت ، آسمانی ہدایت اسی ترتیب کو چاہتی تھی اس وقت کی آسمانی ہدایت کیونکہ تزکیہ نفس پر ساری کوشش ختم ہوگئی ابدی ترقیات کا وعدہ نہیں تھا ان کو الكتاب كامل كتاب أو تُوْا نَصِيبًا مِنَ الكِتب (ال عمران (۲۴) ایک حصہ دیا گیا تھا۔اس واسطے ان کی روحانی ترقیات اور دوسری خیر جوان ہدایتوں کے ذریعے سے ان کو ملتی تھی وہ ایک جگہ