خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 437 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 437

خطابات ناصر جلد دوم ۴۳۷ اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۷۹ء پر ختم ہو جاتی تھی ابدی طور پر نہ ختم ہونے والی ترقیات ہمیشہ بڑھتے رہنے والا ہر آن بڑھتے رہنے والا اللہ تعالیٰ کا پیار یہ وعدہ ان ہدایتوں ان شریعتوں میں نہیں دیا گیا تھا۔اس واسطے ان کے نزدیک کمال جو ہے وہ تزکیہ نفس ہے اور اسی ترتیب سے انہوں نے ذکر کر دیا لیکن جو ہدائت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آئی وہ نہ ختم ہونے والی ترقیات، نہ ختم ہونے والے انعامات، ہمیشہ مسلسل بڑھتے چلے جانے والے اللہ تعالیٰ کے انعام کا وعدہ اس کے اندر ہے اور لیکن جو نشان ہیں ، سکتے ، وہ صرف چار ہیں آیات سے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی میں ترتیب لیتا ہوں آیات ہیں اور کتاب ہے اور حکمت ہے اور تزکیہ نفس ہے۔یہ چا رہی ہے ناں۔وہاں آ کے ان کی شریعت ترقیات کو ختم کر دیتی ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ ختم ہونے والی ترقیات ہمیشہ آگے بڑھتے رہنے والی۔تو یہ چار جو ہیں پوائنٹ ( نکتے ) اس میں تو محدود بن جاتے ہیں یعنی جب چوتھے پہ پہنچیں گے تو پانچواں نہیں آئے گا لیکن اگر چکر چلے تو پھر نہ ختم ہونے والا بن گیا اور چکر اس طرح چلا یہ میں آپ کو بتاتا ہوں جومحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وعدہ ہے اس کو مختصر اشروع میں بیان کیا تھا ھڈی لِلْمُتَّقِینَ جو متقی ہیں ان کے لئے بھی ہدایت ہے متقی بناتی بھی ہے متقیوں کو مزید ہدایت دیتی ہے۔پھر پہلے سے بڑا ایک بڑھ کر متقی بن جاتا ہے انسان۔پھر جب بڑھ کر متقی بن جاتا ہے بڑھ کر انعام حاصل کرتا ہے۔جب بڑھ کر انعام حاصل کرتا ہے جو اس کی صلاحیت ہے وہ اس قابل ہو جاتی ہے کہ اسے پہلے کی نسبت زیادہ ہدائت نصیب ہو، پھر اس جب زیادہ ہدایت نصیب ہوتی ہے زیادہ تزکیہ نفس نصیب ہوتا ہے زیادہ تزکیہ نفس ہوتا ہے زیادہ پیار ملتا ہے، جب زیادہ تزکیہ نفس ہوتا تو پھر، وہ حقدار ہو جاتا ہے ہدایت اس کو اور ملے تو اس تسلسل کی وجہ سے جو ایک دائرہ ہے چھوٹا ہو یا بڑا جب اس کے گرد آپ چکر لگائیں وہ نہ ختم ہونے والی حرکت ہے ہماری عقل کہتی ہے۔بے شک پنسل سے لگا کے دیکھ لو اپنے کاغذوں کے اوپر ختم ہی نہ ہوگی ختم تو وہ ہوتی ہے جو ایک جگہ آگے آگے ختم ہو گئی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دماغ میں جس شریعت کا تصور تھا اپنی وہ وہ تصور تھا ایک نصیب من الکتاب کامل کتاب کا ایک حصہ ہے ان کے پاس اور آیات ہیں آسمانی نشان ہیں پھر ہدایت ہے چھوٹا سا، اس کی تھوڑی بہت حکمت بھی بیان کی گئی ہے، اس طرح کی نہیں ، لیکن کچھ نہ کچھ ہے ان کی عقل اور سمجھ کے مطابق۔