خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 32
خطابات ناصر جلد دوم ۳۲ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۴ء وَذَكِّرْ فَانَ الذِّكْرَى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ (الذريت : ۵۶) مومنوں کی جماعت کے لئے یاد دہانی فائدہ دیتی ہے اس لئے میں اس قرآنی حکم کے ماتحت احباب کو یاد دلاتا ہوں کہ وہ اس وقف کی طرف خصوصی توجہ دیں۔پچھلے سالوں میں بھی جلسہ کے موقع پر بہت زیادہ فارم پر کئے جاتے رہے ہیں۔اس دفعہ بھی فارم پر کروائے جائیں اور دوست زیادہ سے زیادہ وقف عارضی پر جائیں۔پھر اسی ضمن میں تعلیم القرآن کلاس کی ایک تحریک ہے جس کے متعلق اعلان ہوتا رہتا ہے۔اس کی طرف بھی جماعت کو چاہئے کہ وہ خصوصی توجہ دے۔تحریک جدید۔تحریک جدید ایک لمبے عرصہ سے غیر ممالک میں کام کر رہی ہے۔اس وقت تک اللہ تعالیٰ کے فضل سے پچاس سے زیادہ ممالک میں جماعتیں قائم ہوگئی ہیں۔کہتے ہیں انگلی کٹا کر شہیدوں کا ثواب حاصل کر لینا۔اسی طرح ہم بھی اس تحریک کے ذریعہ صرف ہاتھ لگا کر ثواب حاصل کر لیتے ہیں۔ورنہ ہماری کمزوری شاید اس سے بھی زیادہ ہے۔یہ تو محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جس پر اُمید رکھتے ہوئے ہم سمجھتے ہیں خدا شاید اس سے بھی زیادہ ثواب دے دے گا۔اب دیکھیں اللہ تعالیٰ کس طرح ہم پر اپنی برکتیں اور بے پایاں رحمتیں نازل کر رہا ہے۔اس پر ہم اس کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے۔پچھلے سال پتہ چلا کہ سوڈان میں جماعت احمد یہ قائم ہوگئی ہے۔حالانکہ نہ آج تک وہاں کوئی مبلغ گیا نہ ہماری ان سے خط و کتابت ہوئی۔ایک آدمی نے بتایا کہ پتہ نہیں کس وقت غالباً ۱۹۳۰ ء سے بھی پہلے ایک آدمی ملا۔اس کے ذریعہ ہمارا باپ احمدی ہوا تھا۔وہ ایک خاندان تھا اس نے کہا کہ ہمارے اور بھی بہت سے بہن بھائی اور رشتہ دار بھی ہیں اور ہمارے باپ نے احمدیت ہمارے دلوں میں کوٹ کوٹ کر بھر دی ہے اور اس کو تو ہم چھوڑ نہیں سکتے لیکن مرکز سے ہمارا تعلق نہیں اور جب وہ نائیجیریا میں گئے تو جماعت احمدیہ کو دیکھ کر حیران ہو گئے اور کہنے لگے کیا نائیجیریا میں بھی جماعت ہے اور اتنی بڑی جماعت ہے؟ وہ کہنے لگے ہمارا مرکز سے تو کوئی تعلق نہیں ہے البتہ احمدیت سے ہمارا تعلق ایک لحظہ کے لئے نہیں ٹوٹا۔کیونکہ ہمارا باپ جو فوت ہو چکا ہے لیکن اس نے ہم بہن بھائیوں میں احمدیت کا اتنا پیار اور محبت پیدا کر دیا ہے کہ ہما را احمدیت کو چھوڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔نائیجر ایک چھوٹی سی آزاد مملکت ہے اور نائیجیر یا کے پاس واقع ہے۔وہاں بھی کبھی کوئی