خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 332
خطابات ناصر جلد دوم ۳۳۲ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۸ء چھوٹی عمر سے بڑا آسان ہو جاتا ہے اور جو بچوں کو آپ میں سے جو پڑھا رہے ہیں قرآن کریم ، اس عمر کے ہیں وہ اس سے فائدہ اٹھائیں یہ یہاں اب اسی خط میں قرآن کریم متن یعنی بغیر ترجمے کے، میں سادہ جان کے نہیں کہہ رہا کیونکہ قرآن کریم کو سادہ کون کہے وہ تو ساری دنیا کی برکتوں سے بھرا ہوا ہے وہ سادہ کہاں سے آگیا۔بہر حال متن اس کا جو ہے وہ چھپ چکا ہے وہ بھی پڑھنے والے بچوں کو اس سے پڑھانا چاہئے وہ قاعدے کے بعد وہاں روانی ہو جاتی ہے۔اس کی رسم الحظ میں۔حضرت پیر صاحب نے کچھ قواعد بنائے تھے کہ یوں اس طرح اس کا غیر زبانوں میں ترجمہ ہو تو ان چیزوں کا خیال رکھا جائے اس کے مطابق جو انہوں نے قواعد بنائے تھے اس کے مطابق نائیجیریا کی جماعت نے ، نائیجیر یا بہت بڑا ملک ہے، انگریزی قاعدہ میسرنا القرآن انگریزی کے نوٹوں کے ساتھ اس کے مطابق انہوں نے شائع کر دیا۔اللہ تعالیٰ ان کو جزاء دے، برمی زبان میں سورۂ فاتحہ اور تیسویں پارے کا ترجمہ اور تفسیر شائع ہو رہی ہے۔ہاؤ سا زبان میں قرآن مجید کے ترجمہ کا کام شروع ہو چکا ہے، یہ بھی نائیجیریا کی زبان ہے نائیجیریا میں قرآن کریم اور دوسرے اسلامی لٹریچر کی وہ نمائش ہر سال کرتے ہیں جو بڑی ہی مقبول ہوتی ہے اور پڑھا لکھا طبقہ جو ہے بڑی کثرت سے وہاں جاتا ہے اس سے استفادہ کرتا ہے وزراء بھی آ جاتے ہیں بعض دفعہ اور بڑے بڑے تجار بھی آجاتے ہیں اور بڑا فائدہ ہورہا ہے نائیجیریا کو قرآن کریم کی برکات سے اس تحریک کے نتیجے میں۔غانا میں میں نے بتایا ہے نا پندرہ نئی مساجد اس سال بنی ہیں۔غانا میں اس وقت تک کل مساجد دوسو ہوگئی ہیں اور ویسے بہت چھوٹا ملک ہے میرا خیال ہے اس کی آبادی کوئی چالیس پچاس لاکھ کے قریب ہے ( کیوں جی غانا کی آبادی؟ بتایا گیا کہ نوے لاکھ کے قریب ہے ایک کروڑ سے کم ہی ہے نوے لاکھ کے قریب ہے ) اور دوسومساجد یہاں بن چکی ہیں۔اچھا غانا سے وہاں کے مشنری انچارج عبدالوہاب بن آدم نے ایک خط لکھا ہے بڑا جذباتی ہو کر اور ہے بھی جذباتی ہونے والی بات وہ لکھتے ہیں کہ ہمارے ملک میں غیر مذاہب والے آئے اور اپنی اپنی اپنے اپنے مذہب کی مقدس کتاب لے کے آئے۔مثلاً یہ عیسائی پہنچے عیسائیوں کے مختلف فرقے پہنچے وہاں یہودی بھی پہنچے وہ پتہ نہیں لے کے گئے ہیں بہر حال عیسائی اپنی انجیل اور تورات لے کے آئے۔