خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 333 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 333

خطابات ناصر جلد دوم ۳۳۳ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۸ء اور یہ جو واقعہ آگے انہوں نے لکھا ہے کہ اس سے پہلے آج تک کسی بیرونی مذہب نے اپنی مقدس کتاب ہمارے ملک غانا میں شائع نہیں کی یعنی وہاں طبع نہیں کروائی باہر سے منگواتے تھے اور ہمارا فارن اینچ خرچ کرتے تھے ہمارے ملک کا۔یہ پہلا واقعہ ہے کہ جماعتہائے غانا نے ، وہ لکھتے ہیں کہ صرف جماعت ہائے احمد یہ ہی ایک ایسی واحد مذہبی جماعت ہے جس نے غانا میں پہلی مرتبہ اپنی مقدس مذہبی کتاب قرآن مجید کو پرنٹ ، طبع کروایا اور شائع کیا اور یہ پہلا واقعہ یعنی یہ غانا کی تاریخ میں ایک نمایاں واقعہ بن کے آگیا کہ پہلی بارغانا کے اندر کسی نے اپنی مقدس کتاب قرآن عظیم کو وہاں انگریزی ترجمے کے ساتھ اپنے ملک میں طبع کروایا دس ہزار کی تعداد میں اور وہ اس کی وہاں اشاعت ہو رہی ہے اس کی کاپی جو جلسے پر وہاں سے آئے ہیں ، وفد جلسے پر آیا ہے نانا سے، ایک کاپی میرے لئے لے کے آئے تھے۔وہ بڑا اچھا خوبصورت چھپا ہے۔میں بڑا خوش ہوا دیکھ کے۔میرا خیال نہیں تھا کہ اس کا معیا را تنا بلند ہوگا۔وہ و سیرالیون میں ایک بہت بڑی مسجد بواجے بو کے مقام پر مکمل ہوئی ہے بواجے بو ہمارے نیشنل پریذیڈنٹ وہاں کے چیف گمانگا وہ دو سال ہوئے غالبا یا تین سال ہوئے یہاں آئے بھی تھے دو دفعہ آچکے ہیں جلسے پر ، پچھلے سال فوت ہو گئے ہیں بڑے مخلص بڑے فدائی بڑے زیرک اور سمجھدار تھے تو وہاں یہ انہوں نے اپنے گاؤں میں شروع کی ، اور بڑے مدد کرنے والے لوگوں کی ان کے متعلق بات تو غلط ہو گی لیکن ان کی طبیعت ایسی ہی تھی کہ لوگوں نے مشہور کیا ہوا تھا، احمدی ہونے سے پہلے وہاں لوگ دس دس بیویاں بھی کر لیتے ہیں اب بھی۔تو ان کو یہ پتہ ہی نہیں تھا کہ کون میرا بیٹا ہے کون نہیں ہے یعنی اپنے بچوں کی تعداد اور ان کی شکلیں بھی وہ نہیں جانتے تھے اور لوگ جو طالبعلم یونیورسٹی میں داخل ہونا چاہتا تھا ان کی طبیعت کو جو جانتا تھا وہ آ جاتا تھا ان کے پاس اور کہتا تھا کہ میں تو آپ کا بیٹا ہوں میرا خرچ برداشت کریں اور چپ کر کے اس کو خرچ دے دیتے تھے تو اس طرح اس وجہ سے ان کی مالی حالت اتنی اچھی نہیں رہی تھی آخر میں۔لیکن بڑے ہی مخلص۔انہوں نے مسجد وہاں شروع کی تھی پھر وہ مجھے پتہ تھا کہ یہ اپنے پہ تو خرچ نہیں کرتا انسان ، بالکل سادہ زندگی گزارنے والا ہے تو کچھ جماعت کی طرف سے بھی ان کو مددملی۔یہ ایک ہی مسجد ہے جس کو جماعت کی طرف سے افریقہ میں کوئی مدد لی ، ویسے میں نے کہا نا کوئی نہیں ، اب میں