خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 314 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 314

خطابات ناصر جلد دوم ۳۱۴ افتتاحی خطاب ۲۶ / دسمبر ۱۹۷۸ء ہے مگر تمہاری عاجزانہ اور کمزور حیثیت کے لحاظ سے مطالبہ کرتا ہے۔پس اس جلسہ کے دوران بھی دوست دعائیں کریں اور بہت دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ جلد غلبہ اسلام کے سامان پیدا کر دے ہماری آئندہ آنے والی نسلوں کو چاہئے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور جماعت احمدیہ کی ترقی کی رفتار میں جو تیزی اور شدت پیدا ہو چکی ہے اور جماعت ہر سال پہلے سے زیادہ تعداد میں بڑھتی چلی جاتی ہے یہ ہر سال ہی پہلے سے زیادہ بڑھتی چلی جائے اور ہماری کسی نسل کی کمزوری کے نتیجہ میں اس میں کمزوری نہ پیدا ہو۔خدا کرے غلبہ اسلام کے حسین جلوے ہم بھی اپنی زندگیوں میں دیکھ لیں اور ہماری آنے والی نسلیں خدا تعالیٰ کی اتنی حمد کریں کہ ان کے دل حمد سے معمور ہو جائیں۔سوائے خدا کے، ان کے دلوں میں ، ان کی روح میں اور کوئی چیز باقی نہ رہے۔ان کے دل میں ہمیشہ یہ احساس قائم رہے کہ وہ خدا کے عاجز بندے ہیں۔ساری دنیا کے دھتکارے ہوئے اور غریب ہیں لیکن بایں ہمہ خدا تعالیٰ نے انہیں یہ توفیق دی کہ ساری دنیا کے دل جیت کر انہیں تو حید حقیقی کے جھنڈے تلے جمع کر دیا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں لا رکھا۔اس سے زیادہ برکت اور کیا ہوسکتی ہے۔اس سے زیادہ خوشی ہمارے لئے اور کیا ہوسکتی ہے۔پس اپنے مقام کو پہچانیں اور خدا سے یہ دعا کریں کہ اے خدا! جس غرض کے لئے تو نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا ہے۔وہ غرض ہماری زندگیوں میں پوری ہو اور آپ کی بعثت کی غرض کو پورا کرنے کے لئے اب نئی نسلوں کے کندھوں پر بوجھ پڑنے ہیں۔ہم نئی نسلوں میں شامل ہیں۔ہمارے بعد اور نئی نسلیں آئیں گی۔میں بخیل نہیں ہوں۔میں یہ نہیں کہتا کہ ہمارے جتنی تمہیں خدمت دین کی توفیق ملے۔میں یہ کہتا ہوں کہ تمہیں مجھ سے بڑھ کر تو فیق ملے خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانیاں دینے کی اور مجھ سے زیادہ تم اس کے فضلوں کے وارث بنو۔جو شخص خدا تعالیٰ کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔خدا اپنے ایسے بندہ کے لئے اس دروازے کو کھولتا ہے لیکن یہ دروازہ اسی کے لئے کھلتا ہے جو خلوص نیت کے ساتھ اس کے حضور جھکتا ہے اور اپنے دل کوشکر کی ہرقسم کی ملونی سے پاک کر لیتا ہے۔یاد رکھو اگر تمہارے صحن سینہ میں شرک کا شائبہ بھی ہوگا تو خدا تعالیٰ کی غیرت اس سینہ میں داخل ہونا گوارا نہیں کرے گی۔پس خالص تو حید کو اپنے ذہنوں میں، اپنے سینوں میں، اپنی روح میں اور اپنی زندگی میں