خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 313 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 313

خطابات ناصر جلد دوم ۳۱۳ افتتاحی خطاب ۲۶؍ دسمبر ۱۹۷۸ء تعداد اسی وعدہ کے مطابق جو خدا تعالیٰ نے اپنے ایک عاجز بندے سے کیا تھا۔ایک کروڑ تک پہنچ گئی۔الحمد لله علی ذالک جیسا کہ میں نے کئی بار پہلے بھی بتایا ہے میرے اندازے کے مطابق جماعت احمدیہ کی جو دوسری صدی ہے، وہ غلبہ اسلام کی صدی ہے اس میں ساری دنیا میں اسلام غالب آئے گا اور کیا مسلم اور کیا غیر مسلم جماعت احمدیہ کی ان خدمات کے قائل ہو چکے ہوں گے کہ واقعی یہی جماعت احمد یہ اسلام کی خدمت کے لئے قائم کی گئی تھی اور اس نے دنیا کے دل جیت کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ڈالے ہیں۔مگر اس وقت تک (۱۹۰۲ ء تک) جن کمزور کندھوں پر اس ذمہ واری کا بوجھ ڈالا گیا تھا وہ تو اب تعداد میں کم ہو گئے۔جماعت احمدیہ کی تعداد جب بڑھی تو جو لوگ پرانے احمدی تھے وہ بقضائے الہی فوت ہو گئے اور نئی نسلوں پر یہ بوجھ پڑتا چلا گیا۔میں خود ایک الہام کی تشریح کے مطابق صحابہ میں شامل ہوں۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ تم بھی صحابہ مسیح موعود علیہ السلام میں سے ہو لیکن میری پیدائش تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے بعد کی ہے۔پس چونکہ اسلام کو ساری دنیا میں غالب کرنے کی ذمہ داری کو نسلاً بعد نسل اٹھاتے چلے جانا ہے۔اس لئے نئی آنے والی نسلوں سے میں مخاطب ہوں اور شاید اس سارے جلسہ کے دوران ان ہی سے مخاطب رہوں۔میں ان سے یہ کہتا ہوں کہ تمہارے اوپر بڑی بھاری ذمہ داری ہے۔اس کے ساتھ ہی تمہارے لئے آسمانوں کے سب دروازے کھول دیئے گئے ہیں کہ تم ان دروازوں میں سے داخل ہو کر آسمانی رفعتوں کو حاصل کرو اور أَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً (لقمن : ۲۱) کی رو سے خدا تعالیٰ کی نعمتیں جو موسلا دھار بارش کی طرح نازل ہوتی ہیں۔وہ تمہاری جھولیاں بھرنے کے لئے ہوتی ہیں۔تم جھولیاں آگے کرو۔تم اس میں دلچسپی لو۔تم خدا تعالیٰ کے حضور کچھ تھوڑا سا پیش کرو وہ تمہیں سب کچھ دے گا۔وہ تم سے ہر چیز نہیں مانگتا۔میں نے پہلے بھی بتایا ہے۔وہ تم سے ضرورت کے مطابق نہیں مانگتا۔وہ تم سے قربانی اور ایثار چاہتا ہے لیکن تمہاری طاقت کے مطابق لیکن دیتا ہے اپنی قدرت کاملہ سے وہ ساری دنیا کا مالک ہے۔اس کے خزانے کبھی ختم نہیں ہوتے۔وہ بڑا دیالو ہے۔وہ تم سے قربانی اور ایثار کا مطالبہ کرتا