خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 282 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 282

خطابات ناصر جلد دوم ۲۸۲ اختتامی خطاب ۲۸ ؍ دسمبر ۱۹۷۷ء اوپر سے اٹھا کر بلند کیا۔یہ میں مثال دے رہا ہوں ورنہ ایک وقت میں سب کچھ ہو رہا ہے۔اور وہ یہ کہ جور بوبیت تھی اس میں جاندار اور غیر جاندار ذی شعور اور غیر ذی شعور سارے شامل تھے۔ان کے ر بو بیت رب العالمین جو تھی وہ جلوہ گر ہو رہی تھی۔لیکن رحمانیت کا جلوہ خدا تعالیٰ کی جو رحمانیت ہے اس کا جلوہ جو ہے وہ صرف جاندار کے اوپر ہے، غیر جاندار کے اوپر نہیں۔لیکن جانداروں میں سے پھر وہ بڑا عام ہے یعنی کیڑے مکوڑے بھی ہیں، بیکٹیریا بھی ہے جس جگہ زندگی پائی جاتی ہے اس جگہ رحمانیت کا جلوہ جو ہے وہ نظر آتا ہے انسان کو ، اگر وہ غور کرے، اگر وہ غور کرے اس قدرت کے کرشموں پر بھی اور غور کرے خدا تعالیٰ کی کتاب قرآن کریم پر بھی۔رحمانیت نے زندگی اور حیات کا امکان پیدا کیا اور یہ ذی شعور اور غیر ذی شعور اور نیک و بد کی پھر وہی آ گیا سب کے قیام کے لئے اور بقائے نو کے لئے ، اس کا ذاتی وجود جو ہے اس کی بقاء کے لیے بھی کہ وہ قائم رہے اور بقائے نو کے لئے بھی اور ان کی تقدیر کے لئے اسباب مطلوبہ میسر کرتی ہے یعنی زندہ رہنے کے لئے جس چیز کی ضرورت ہے وہ خدا تعالیٰ کی رحمانیت نے ہر زندہ چیز کے لئے پیدا کر دی۔اور یہ اس میں بھی جو اسباب خدا تعالیٰ نے زندہ رکھنے کے لئے پیدا کئے ہیں ان اسباب میں پھر نیک و بد اور مومن اور کافر کا کوئی فرق نہیں بلکہ وہ اسباب ایک گھوڑے کی زندگی بھی رکھ رہے ہیں اور ایک انسان کی زندگی کو بھی قائم رکھ رہے ہیں۔اور ایک گھوڑے کی نوع کو بھی قائم رکھ رہے ہیں اور انسان کی نوع جو ہے نوع انسانی اس کے قیام کے لئے بھی ، یہ جلوے رحمانیت کہلاتے ہیں اور اس کے لئے ذی روح یا شعور والی جو زندگی ہے اس کو کچھ محنت نہیں کرنی پڑتی۔بلکہ حیات پیدا ہی ہوتی ہے رحمانیت کے جلوؤں کے نتیجے میں ، یعنی وہ تمام اسباب جن کے نتیجہ میں زندگی پیدا ہوسکتی ا تھی وہ تمام اسباب جب مہیا کئے گئے تو پھر زندگی پیدا کر دی خدا تعالیٰ نے اور اس کے لیے کسی دعا کی ضرورت نہیں ہے کسی تضرع کی ضرورت نہیں ہے انسان ہونے کی ضرورت نہیں ہے مومن ہونے کی ضرورت نہیں ہے مخلص ہونے کی ضرورت نہیں ہے یہ تمام ذی شعور ہستیوں کے لئے۔بہت ساری قسمیں ہیں اس میں بھی بے تحاشہ وہ ان کے اوپر خدائے رحمان کے جلوے ہورہے ہیں۔اور پھر یہاں یہ ہے کہ انسان کو باقی تمام زندہ چیزوں سے علیحدہ کر کے انسان کو مخدوم بنایا خدا تعالیٰ