خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 251
خطابات ناصر جلد دوم ۲۵۱ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ ؍ دسمبر ۱۹۷۷ء یسٹ افریقہ میں غانا اور سیرالیون کے متعلق ہر دو ملک یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہاں احمدیوں کی تعداده الا کھ سے اوپر نکل چکی ہے۔تو تعداد کے لحاظ سے وسعت اس عرصے میں بڑا انقلاب ہے، دوسرے ممالک ہیں اس میں اتنی نہیں۔یورپ ہے وہاں اتنی نہیں لیکن یہ ہے کہ وہاں زمین تیار کی جارہی ہے اور امریکہ جو کہتا ہے جب لگانے ہوں انار کے پودے اور مالٹے کے پودے تو دو سال تک زمین تیار کرنی چاہئے پھر درخت لگانے چاہئیں ورنہ کامیابی نہیں ہوتی۔میں نے خود پڑھا ہے امریکہ کے رسالوں اور کتابوں میں تو جہاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا باغ ، پھلدار ، خوشگوار ، صحت مند دوسروں کی بھلائی والا لگانا ہے۔اس کے لئے تو پہلے زمین تیار کرنی پڑے گی تو زمین تیار ہو رہی ہے، یورپ میں بھی ہو رہی ہے زمین تیار، امریکہ میں بھی ہو رہی ہے زمین تیار۔جزائر میں بھی ہو رہی ہے افریقہ مغربی ہو یا مشرقی ہو یا جنوبی ہو یا شمالی ہو ان کے اندر بھی زمین تیار ہورہی ہے۔کسی جگہ کچھ ، کسی جگہ کچھ ، میں ان کو بھی کہتا ہوں جو بات کرتے ہیں میں انہیں بھی کہتا ہوں ابھی وقت نہیں آیا تعداد گننے کا نہیں کہ اگر یہ دیکھو کہ تمہارے اندر کیا تبدیلی ہوئی۔یعنی وہ تو میں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام گالی دیئے بغیر نہیں لیتے تھے ان کے اخباروں اور کتابوں میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور شان کو کچھ حد تک پہچان کے اس کے متعلق اظہار کرنا شروع کر دیا ہے۔یہ تبدیلی ، یہ انقلاب جو ہوا ہے مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کو جو محد صلی اللہ علیہ وسلم کی برکتیں آپ کے طفیل ملی ہیں ،اس کے نتیجہ میں یہ کہیں آپ کو نظر نہیں آتا یعنی کوئی اور کوشش اس قسم کا نتیجہ نہیں دکھا رہی کہیں بھی۔میں نے پہلے بھی بتایا کہ وہ جو مخالف ہے وہ تو تعداد کی کمی سے بھی اپنا نتیجہ نکالے گا۔۱۹۶۷ء میں مجھ سے پوچھنے لگے۔بڑا تیز قسم کا ایک کیتھولک صحافی تھا کہ ہمارے ملک میں آپ کتنے مسلمان بنا چکے ہیں۔پریس کا نفرنس میں بھی آدھا گھنٹہ میری گفتگو ہوئی تھی۔اس نے دیکھا کہ یہ تو اثر ہو رہا ہے تعلیم کے لحاظ سے۔تو اس نے کہا اس کا اثر زائل کرتے ہیں اس طرح۔خدا تعالیٰ کی بڑی شان ہے کہ اچانک ایک سوال یہ ہو جائے ، جو نہ پہلے کبھی سنا نہ کچھ۔خدا تعالیٰ نے مجھے جواب ایسا سمجھایا کہ اس کا منہ بند ہو گیا۔میں نے اس کو تعداد نہیں بتائی۔میں نے اس کو کہا کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنی ساری عمر میں جتنے عیسائی بنائے تھے اس سے زیادہ تمہارے