خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 250 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 250

خطابات ناصر جلد دوم ۲۵۰ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ ؍ دسمبر ۱۹۷۷ء غانین احمدی مخلص کے دل میں ، یا سیرالیون کے رہنے والے احمدی مخلص کے دل میں ، یہ کہنا مشکل ہے ایسا مزہ آتا ہے ان کے اس عشق رسول کو دیکھ کر کہ آپ اندازہ نہیں لگا سکتے ، وہ تجربہ کرنے والا ہے۔سن کے کوئی اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔میں یعنی ایک دفعہ ہی جاسکا ہوں افریقہ کے ممالک میں مثلاً اور جتنا جنون ہو وہاں آزادی بہت ہے اور بردباری اور حمل ٹالرنس (tolerance) بہت ہے اور وہ اپنی گاڑیوں کے اوپر لاؤڈ سپیکر لگا کے صل علی نبینا صل على محمد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر درود بھیجتے گلیوں میں پھر رہے ہیں عیسائی بھی سنتے ہیں مسلمان بھی سنتے ہیں لیکن بولتا احمدی ہے اور وہ فضا میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیج کے جو فضا کو معمور کر دیتے ہیں، آنکھوں میں ان کے پیار آتا ہے، نم ہو جاتی ہیں آنکھیں ذکر سن کے اور اسی وجہ سے میں جب گیا تو میں نے یہ محسوس کیا کہ اتنا پیار مجھ سے کرتے ہیں نہ جان نہ پہچان ظاہری طور پر سوائے جماعت احمدیہ کے امام ہونے کے اور تو میری ان کے ساتھ کوئی واقفیت نہیں ، نہ کبھی ان سے واسطہ پڑا، نہ ایک دوسرے کی شکلوں کے واقف ، نہ عادات کے واقف نہ تربیت کے لحاظ سے کہ وہ کتنے آگے گئے ہیں وہ واقفیت، اتنا پیار، اتنا پیار اور پھر جماعت سے مرکز سے ان کا پیار میں سوچ میں پڑ گیا کوئی وجہ ہونی چاہیئے اس کے پیچھے، پھر مجھے یہ سمجھ آیا کہ یہ لوگ ہم سے اس لئے پیار کرتے ہیں کہ پہلے تو غنودگی کی حالت تھی جو محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب بھی ہوتے تھے لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن اور آپ کے نور سے نا آشنا بھی تھے لیکن جب احمدیت نے جا کر ان کے سامنے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو بیان کیا اور آپ کی شان اور بلند مقام اور وہ نور جو خدا تعالیٰ نے آپ کو انسانیت کے لئے رہتے دم تک عطا کیا تھا قیامت تک اس سے وہ آشنا ہوئے اور معرفت ان کو حاصل ہوئی محمد کے مقام کی۔(صلی اللہ علیہ وسلم ) تو انہوں نے یہ سوچ کر که اتنی عظیم چیز جس سے پہلے ہم محروم تھے ان احمدیوں کی وجہ سے ہمیں ملی ہے انہوں نے احمد یوں کے مرکز سے بھی پیار کیا، اور احمدیوں کے امام سے بھی پیار کیا ، کہ وہ ان کا بھی امام ہے ایک تو یہ انقلابی تبدیلی کسی ملک میں زیادہ کسی ملک میں کم بیرون پاکستان کے ممالک میں جہاں ہمارے مشن قائم ہوئے ہیں اور جماعتیں قائم ہو چکی ہیں ان میں پیدا ہوئی ہے اور دوسری انقلابی تبدیلی تعداد کے لحاظ سے ، اور ان لوگوں کا اندازہ ہے ( ہمیں تو نہیں پتا ) ان لوگوں کا اندازہ یہ ہے کہ مثلاً