خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 234
خطابات ناصر جلد دوم ۲۳۴ افتتاحی خطاب ۲۶ دسمبر ۱۹۷۷ء نہیں ہوگا اور نہ ایٹمی ہتھیاروں کے ساتھ بلکہ یہ کام محبت اور پیار اور خدمت کے جذبہ کے ساتھ کیا جائے گا اور خدا تعالیٰ کے حسن و احسان کو دنیا کے سامنے پیش کر کے بنی نوع انسان کے دل جیت کر یہ مشن پورا کیا جائے گا۔پس یہ وہ پیشگوئی اور بشارت ہے جس کے متعلق پہلے بزرگوں نے بھی کہا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارتوں کے ماتحت کہا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ اس زمانہ میں جماعت احمد یہ اپنی کمزوریوں کے باوجود اور کم مایہ ہوتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی مورد بنے گی اور وہ قادر و توانا اسے اپنا ہتھیار بنائے گا تا دنیا میں اسلام کو غالب کرے۔پس یہ اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم منصوبہ ہے اور یہ ایک عظیم خدائی تدبیر ہے جس کے پورا ہونے کا یہی وقت ہے۔تاہم اس کے پورا ہونے کے لئے جن قربانیوں کی ضرورت ہے ان کی ذمہ داری آپ کے کندھوں پر ڈالی گئی ہے۔آپ اپنے نفس کے لئے یہ قربانیاں نہیں دیں گے اور نہ اپنے خاندانوں کے لئے۔دنیا کی دولت کے لئے یا دنیا کے اقتدار کے لئے آپ یہ قربانیاں نہیں دیں گے بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا دنیا میں گاڑنے کے لئے جماعت احمد یہ قربانیاں دے گی۔وباللہ التوفیق۔پس یہ اس سلسلہ عالیہ احمدیہ کا جلسہ ہے جس کے ذمہ ساری دنیا میں اسلام کو غالب کرنے کا کام ہے۔یہ ایک بڑا اہم موقع ہے جب کہ ہم ادھر ادھر سے اکٹھے ہوکر یہاں جمع ہو جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ یہ سلسلہ جو قائم کیا گیا ہے اس کے لئے خدا تعالیٰ نے قو میں تیار کی ہیں جو اس کے ساتھ آملیں گی اور یہ اس زمانے کی بات ہے جب قوموں کا تو کیا افراد بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گرد کثرت کے ساتھ جمع نہیں ہوئے تھے۔آپ کے گھر والوں نے بھی اور دنیا نے بھی آپ کو دھتکار دیا تھا مگر خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے قو میں تیار کی ہیں جو سلسلہ عالیہ احمدیہ کی حقیر کوششوں کے ذریعہ اسلام میں شامل ہو جائیں گی۔غرض ایک وقت آئے گا جب انشاء اللہ ساری دنیا کی قومیں اسلام میں شامل ہو جائیں گی۔یہ ایک حرکت ہے جو دنیا میں جاری ہو چکی ہے اور وہ قومیں جنہوں نے سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہو کر اسلام کو غالب کرنا ہے ان کے ہر اول دستے پیدا ہو چکے ہیں اور ان ہر اول دستوں کے کچھ نمونے غیر ملکی