خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 233 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 233

خطابات ناصر جلد دوم ۲۳۳ افتتاحی خطاب ۲۶؍ دسمبر ۱۹۷۷ء ہم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے ، ان کی ادائیگی اور دعاؤں کے ذریعہ خدا سے مدد مانگنے کے لئے جمع ہوتے ہیں افتتاحی خطاب جلسه سالانه فرموده ۲۶ دسمبر ۱۹۷۷ء بمقام ربوه تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔ہمارا یہ جلسہ عام جلسوں، اجتماعوں یا میلوں کی طرح کوئی معمولی جلسہ نہیں اس جلسہ کی بنیاد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس روحانی فرزند کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی جس کے متعلق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ جب وہ روحانی فرزند دنیا میں ظاہر ہو تو اسے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا سلام پہنچایا جائے۔اس عظیم دعا میں صرف مہدی علیہ السلام ہی شامل نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سلامتی کی جو دعا مہدی معہود کے لئے تھی اس میں مہدی کی جماعت بھی شامل ہے۔پس ہماری یہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان دعاؤں اور بشارتوں کا اہل بنائے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہمیں دی گئی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اس جلسہ کو جماعت سے علیحدہ کر کے نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ یہ جلسہ جماعت احمدیہ کا جلسہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے۔آپ نے فرمایا ہے کہ اس سلسلہ کی بنیادی اینٹ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے اور جس سلسلہ کی بنیادی اینٹ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ سے رکھی جائے اور اس کے اوپر ایک عظیم عمارت کھڑی کرنے کا اللہ تعالیٰ کا جو منصوبہ ہو اس کے راستے میں دنیا کی طاقتیں روک نہیں بنا کرتیں۔جماعت احمدیہ کی بنیاد اس لئے رکھی گئی ہے اور یہ سلسلہ عالیہ اس لئے قائم کیا گیا ہے کہ دین حق کو مضبوط کیا جائے اور کلمہ اسلام کو دنیا میں پھیلایا جائے قرآن کریم میں لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ گیلہ (الصف:۱۰) کی جو پیشگوئی کی گئی تھی اس میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک عظیم بشارت دی گئی تھی کہ دین اسلام تمام دنیا پر غالب آجائے گا۔مگر یہ کام تلوار کے ساتھ