خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 197
خطابات ناصر جلد دوم ۱۹۷ دوسرے روز کا خطاب اار دسمبر ۱۹۷۶ء والے۔ہم نے ان کو گلے سے لگایا۔وہ اسلام لے آئے۔اس کے بعد دوسرا مرحلہ ہے کہ ٹھیک ہے بڑا اچھا مذہب معلوم ہوتا ہے لیکن ہمیں یہ سکھاؤ۔چنانچہ پھر انہوں نے نماز سیکھی (حضور کے دریافت فرمانے پر ایک دوست نے بتایا کہ ہندوؤں میں سے مسلمان ہو نے والے ان دوستوں میں سے قریباً سب کو نماز آتی ہے ) یہ ہمارے بھائی ہیں جیسی ہم زندگی گزاریں گے ویسی ہی یہ زندگی گزاریں گے۔پھر وقف جدید کے ذریعے سے بہت سا مفت علاج بھی کیا جاتا ہے۔فضل عمر فاؤنڈیشن ! یہ میری خلافت کی سب سے پہلی تحریک ہے ۱۹۶۵ء میں کی تھی۔ان کا ایک پروگرام تھا ( میں زیادہ تفصیل میں نہیں جاؤں گا ) اس پروگرام کے ماتحت ایک لائبریری کی عمارت بنی ہے آپ لوگوں نے دیکھا ہے بڑی اچھی عمارت ہے۔جب یہ بنی تھی تو فضل عمر فاؤنڈیشن کے جو کرتا دھرتا ہیں ان کا خیال تھا کہ ہم نے لائبریری کے لئے بہت بڑی عمارت بنادی مگر اب دنیا کہہ رہی ہے کہ بہت چھوٹی عمارت ہے اس کو بڑھاؤ۔یہ چیز تو ہمارے ساتھ لگی ہوئی ہے ہم خوش ہیں کہ عمارت چھوٹی ہو گئی ویسے تو ساری دنیا کی کتا بیں ہمارے پاس ہونی چاہئیں اور اس کے لئے تو اگر سارار بوہ لائبریری بنے تب جا کر اس میں سمائیں گی یا پھر اوپر کو نکلنا پڑے گا جیسے کہ امریکہ کے اس دورے میں ایک احمدی نے نیو یارک میں دعوت کی تو جس ہوٹل میں دعوت تھی وہ ایک سو ساتویں منزل پر تھا اور ایک اور جگہ شاید پندرہ سوفٹ اونچا مینارہ تھا اور اس کے اوپر انہوں نے ریسٹورنٹ بنایا ہوا تھا۔وہ تو جسمانی غذا کے جو عارضی سامان ہیں ان کے لئے ہے اور لائبریریاں تو پھر ہمیں سب سے اونچی لے جانی پڑیں۔ربوہ میں اونچی عمارت انشاء اللہ تعالی جماعت احمدیہ کی لائبریری کی ہوگی۔اور انشاء اللہ تعالیٰ ہمارے مرکز میں یہ سب سے اونچی لائبریری ہماری زندگی کی اگلی صدی کے اندر جو کہ غلبہ ء اسلام کی صدی ہے بن جائے گی۔ایک بڑا گیسٹ ہاؤس بھی انہوں نے بنا کر دیا ہے۔اس کے علاوہ کچھ کتب ان کی طرف سے شائع ہوئی ہیں۔فضل عمر فاؤنڈیشن کے مقاصد میں سے ایک بڑا اہم مقصد ہے لیکن اس کی طرف ابھی ہمارے اہل قلم حضرات نے پوری توجہ نہیں دی اور وہ ہے دینی علمی تصانیف۔علم کا اتنا خزانہ قرآن کریم میں بھرا ہوا ہے کہ ہزاروں آدمی بھی قلم اٹھائیں اور لکھنا چاہیں تو مقالوں کے عنوان بڑھ جائیں گے اور لکھنے والوں کی تعداد ختم ہو جائے گی۔کچھ دوستوں نے فضل عمر فاؤنڈیشن