خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 180 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 180

خطابات ناصر جلد دوم ۱۸۰ دوسرے روز کا خطاب ۱۱ر دسمبر ۱۹۷۶ء ہو کہ یہ بچے پھر دنیا دارانہ گند میں واپس لوٹ جائیں۔اس قدر بے چینی ہے یہ میں مبالغہ نہیں کر رہا میری آنکھوں نے آنسوؤں کی جھڑیاں دیکھی ہیں ، آنسوؤں کی جھڑیاں ان کی آنکھوں سے نکلتی ہوئی ! یہ ہے ہماری آج کی زندگی کی صداقت، جماعت احمدیہ کی زندگی کی صداقت۔ہم سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ ہمیں مبلغ دو۔ہمارے رستے میں ہزار روکیں ہیں۔بعض دفعہ کسی جگہ فارن ایکسچینچ نہیں ہوتا ہر جگہ کے احمدی اس ملک کے وفادار ہیں وہ فارن ایچینج نہیں لے سکتے۔مجھے نانا کی جماعت نے کہا کہ ہمارا ملک غریب ہو گیا ہے ہم نے حکومت سے کہا تھا کہ ہم نے قرآن کریم منگوانے کے لئے باہر پیسے بھیجوانے ہیں تو ہماری حکومت کہتی ہے کہ ہمارے پاس پیسے ہیں ہی نہیں تمہیں کیسے دے دیں۔تعصب کی وجہ سے نہیں بلکہ فارن اکھینچ کی کمی ہے۔چنانچہ انہوں نے کہا کہ آپ ہمیں اجازت دیں کہ انگریزی کا ترجمہ (جو کہ یہاں بڑا ستا شائع کیا ہے اور بڑا اچھا ہے ) ہم یہاں چھاپ لیں۔میں نے کہا کہ مجھے پیار اس بات سے ہے کہ قرآن کریم کی اشاعت ہو اس بات سے کوئی غرض نہیں ہے کہ وہ کہاں چھپا کہاں نہیں چھپا۔اس لئے جتنا چاہو چھا پو اور اسے اپنے ملک میں شائع کرو۔چنانچہ وہ تیاری کر رہے ہیں۔میرا خیال ہے کہ پندرہ بیس ہزار تو چھپ جائے گا۔میں نے امریکہ کو کہا کہ تم نے قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ لاکھوں کی تعداد میں تقسیم کرنا ہے اور یہ بالکل ابتدا ہے۔کیونکہ لاکھوں کی تعداد سے زیادہ تو وہاں کی لائبریریاں ہیں اگر فی لائبریری ایک نسخہ بھی رکھا جائے تب بھی لاکھوں نسخے چاہئیں لیکن پہلے میں یہ کہتا ہوں کہ فوری طور پر پچاس ہزار قرآن کریم شائع کرنے کا انتظام کرو۔یہ آج کی دنیا کا مطالبہ ہے۔دنیا ہمیں کہتی ہے اور صرف ہمیں کہتی ہے کیونکہ ہمیں ہی اس غرض کے لئے پیدا کیا گیا ہے دنیا آج ! ہمیں یہ کہتی ہے کہ اگر تم نے اسلام کو غالب کرنا ہے تو قرآن کریم میرے ہاتھ میں پکڑاؤ اور سچ کہتی ہے دنیا۔اس واسطے آج کا مطالبہ یہ ہے کہ پریس بناؤ۔کئی جگہ چھوٹے چھوٹے پر لیس بھیجے تھے۔وہاں سے ان کی چھوٹے رسالوں کی شکل میں ایک ایک دو دو کتابیں آتی ہیں قرآن کریم اور حدیث کے متعلق۔یہ ایک کام ہے لیکن یہ تو کافی نہیں۔کل مجھے تھوڑی دیر کے لئے امریکن وفد ملا تھا تو میں نے ان سے کہا کہ تمہیں میں بہت۔ނ پروگرام کے لئے چھ مہینے دے کر آیا ہوں اور آج میں اس لئے چپ ہوں کہ ابھی وہ چھ ماہ کا عرصہ :