خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 179
خطابات ناصر جلد دوم ۱۷۹ دوسرے روز کا خطاب ۱۱ر دسمبر ۱۹۷۶ء ہیں تو ایک ذمہ داری تو یہ ہے کہ ہم سے اب ساری دنیا کا یہ مطالبہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب اتنی عظیم تفسیر قرآنی لے کر دنیا کی طرف آئے ہیں تو ہمارے ہاتھ میں دودہ تفسیر۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک سوانح در دصاحب مرحوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لکھی ہے غالباً ۱۹۰۴ء تک کی ہے کچھ حصہ رہ گیا ہے۔امریکہ والوں نے شور مچایا ہوا تھا اور کہتے تھے کہ اس کو مکمل کر کے ہمیں دیں بڑی عجیب کتاب ہے وہ داستان حیات ، وہ فدائیت کے واقعات۔ایک ایک لحظ خدا کی یاد میں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں جس نے گزارا ہے۔اس کی زندگی کے حالات امریکنوں پر بھی اثر انداز ہیں ، اس گندے ماحول میں پرورش یافتہ لوگوں پر بھی۔پس یہ ان کا مطالبہ ہے۔بچوں کے متعلق میں نے خطبہ میں اعلان کیا تھا کہ میرا اندازا ہے ہمیں ایک ہزار کتاب امریکہ اور یورپ کے بچوں کے لئے تیار کرنی پڑے گی ان کی اپنی اپنی عمر کے لحاظ سے ، چھوٹی عمر، پھر بڑی عمر ، پھر بڑی عمر۔تا کہ ان کو پتہ تو لگے کہ اسلام کہتا کیا ہے اسلام کی تعلیم کیا ہے ، ان کو پتہ تو لگے کہ خدا تعالیٰ کی ہستی کتنی عظیم اور جلالت شان والی ہے اور ان کو پتہ تو لگے کہ جن لوگوں نے خدا تعالیٰ کی معرفت حاصل کی چودہ سو سال سے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے لے کر اس وقت تک انہوں نے پھر اس معرفت کے بعد کس طرح خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی ہر چیز قربان کر دی۔اسلام کے صحیح مفہوم کو ان کی زندگیوں میں ہم نے پہچانا اور وہ یہ ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اسلام کے معنی یہ ہیں کہ جس طرح بکرے پر جبر کر کے قصائی اس کی گردن پر چھری رکھ دیتا ہے اس طرح ایک انسان رضا کارانہ طور پر خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اسلامی تعلیم کی اس چھری کے نیچے جو گندگی اور نجاست کو کاٹ کر پھینکنے والی ہے اپنی گردن رکھ دے اور کہے کہ میں تیرے سامنے حاضر ہوں۔ہماری چودہ سو سالہ تاریخ اس قسم کے حسین واقعات سے بھری ہوئی ہے۔پس ہماری یعنی جماعت احمدیہ کی حقیقت یہ مطالبہ کر رہی ہے احمدیت سے اور احمدیت میں آنے والے سے کہ اگر تم نے دنیا تک پہنچنا ہے تو یہ کام کرو۔ہزاروں کی تعداد میں بچے چیخ رہے ہیں ، پکار رہے ہیں کہ ہمیں یہ دو۔میری آنکھوں نے دیکھا امریکہ میں، کہ مائیں آنسوؤں سے رو رہی ہیں کہ ہمارے بچوں کو شیطانی اثرات سے بچانے کا سامان پیدا کرو، ہم تو مسلمان ہو گئے یہ نہ